Bharat Express DD Free Dish

Both Houses of Parliament adjourned till tomorrow: پارلیمنٹ مانسون سیشن کا دوسرا دن بھی ہنگامے کی نذر،اپوزیشن نے ایوان کے اندر اور باہر جم کر کیا مظاہرہ،کارروائی کل تک کیلئے ملتوی

راجیہ سبھا میں ایک اہم پیش رفت اس وقت ہوئی جب ڈپٹی چیئرمین گھنشیام تیواری نے اعلان کیا کہ نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ نے صحت کے مسائل کی بنا پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ وزارت داخلہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق، یہ استعفیٰ آئین کے آرٹیکل 67(a) کے تحت فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے۔

 پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے دوسرے دن لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے شدید احتجاج کی وجہ سے دونوں ایوانوں کی کارروائی کئی بار ملتوی کرنی پڑی اور بالآخر کل صبح 11 بجے تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ اپوزیشن ارکان نے بہار میں الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری خصوصی انتخابی فہرست کی نظرثانی، پہلگام دہشت گرد حملے، اور آپریشن سندور پر فوری بحث کا مطالبہ کیا۔ لوک سبھا میں اپوزیشن ارکان کی نعرہ بازی اور پلے کارڈز دکھانے کی وجہ سے ایوان کی کارروائی صبح 11 بجے سے دوپہر 12 بجے تک، پھر دوپہر 2 بجے تک، اور آخر کار دن بھر کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ راجیہ سبھا میں بھی اسی طرح کی صورتحال دیکھی گئی، جہاں اپوزیشن کے احتجاج کے باعث ایوان کو دوپہر 2 بجے تک اور پھر کل تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔

راجیہ سبھا میں ایک اہم پیش رفت اس وقت ہوئی جب ڈپٹی چیئرمین گھنشیام تیواری نے اعلان کیا کہ نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ نے صحت کے مسائل کی بنا پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ وزارت داخلہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق، یہ استعفیٰ آئین کے آرٹیکل 67(a) کے تحت فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے۔ اس اعلان کے بعد اپوزیشن ارکان نے ایوان کے اندر نعرہ بازی جاری رکھی اور بہار کے ایس آئی آرسے متعلق بحث کا مطالبہ کیا۔ اپوزیشن نے رول 267 کے تحت 12 مختلف ایڈجنمٹ نوٹسز دیے، جن میں کارروائی روک کر اہم مسائل پر بحث کی درخواست کی گئی تھی، لیکن ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے ان سب کو مسترد کر دیا۔ اس کے علاوہ، راجیہ سبھا نے ہنگامے کے بیچ Bills of Lading Bill, 2025 منظور کیا، جو شپنگ دستاویزات کے قانونی ڈھانچے کو جدید بنانے سے متعلق ہے۔

لوک سبھا میں کانگریس کے رکن پارلیمنٹ گورو گوگوئی اور منیکم ٹیگور نے بہار میں ایس آئی آرکے عمل پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ایڈجنمٹ موشن نوٹس پیش کیے، جن میں ووٹر تصدیق کے لیے الیکشن کمیشن کی جانب سے آدھار اور پین کارڈ کو ناقابل قبول قرار دینے پر سوالات اٹھائے گئے۔پارلیمنٹ کے دوسرے دن کی کارروائی میں دیگر اہم ایجنڈوں پر بھی توجہ دی گئی، لیکن اپوزیشن کے احتجاج نے زیادہ تر وقت متاثر کیا۔ لوک سبھا میں The Readjustment of Representation of Scheduled Tribes in Assembly Constituencies of the State of Goa Bill, 2024 پر بحث ہونی تھی، جبکہ راجیہ سبھا میں The Carriage of Goods by Sea Bill, 2025 زیر غور تھا۔ اس کے علاوہ، ہائی کورٹ جج یشونت ورما کے خلاف مواخذے کی تحریک پر بھی بات چیت ہونی تھی، جس کے لیے لوک سبھا میں 145 اور راجیہ سبھا میں 63 ارکان نے دستخط کیے ہیں۔ حکومتی وزراء نے اپوزیشن سے تعاون کی اپیل کی ہے، لیکن احتجاج کے باعث ایوان کی کارروائی بار بار تعطل کا شکار رہی۔ پارلیمنٹ اب کل 23 جولائی کو صبح 11 بجے دوبارہ شروع ہو گی، جہاں ان مسائل پر بحث جاری رہنے کی توقع ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read