Bharat Express DD Free Dish

Jagdeep Dhankhar

بیشتر معاملات میں ووٹروں کا ریکارڈ 2002 میں دہلی میں ہونے والی گزشتہ SIR کی ووٹر فہرست سے میچ نہیں ہو سکا تھا۔ایسے زیادہ تر معروف ووٹر نئی دہلی اسمبلی حلقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ انتخابی حکام کے مطابق نوٹس جاری ہونے کا مطلب ووٹر کا نام خود بخود فہرست سے خارج ہونا نہیں ہے۔

اس موقع پر صدر دروپدی مرمو،  لو ک سبھا کے اسپیکراوم برلااور نریندر مودی سمیت متعدد مرکزی لیڈروں نے پارلیمنٹ ہاؤس احاطے میں مہاتما جیوتی راؤ پھولے کی تصویر پر پھول چڑھا کر انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔

سابق نائب صدرِ جمہوریہ حامد انصاری نے اسپیکر اور چیئرمین کے اختیارات سے متعلق اہم تبصرہ کرتے ہوئے پارلیمانی نظام کی خودمختاری پر سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایوان کے قواعد بالکل واضح ہیں اور ان کے مطابق کارروائی چلانے کا مکمل اختیار اسپیکر یا چیئرمین کے پاس ہوتا ہے۔

دریں اثنا کئی علاقائی پارٹیوں جیسے بیجو جنتا دل (بی جے ڈی)، بھارت راشٹر سمیتی (بی آر ایس) اور شیرومنی اکالی دل (ایس اے ڈی) نے انتخابی عمل سے دور رہنے کا اعلان کیا ہے۔

شہری ترقی کی وزارت کی جانب سے، وزارت کے تحت اسٹیٹ ڈائریکٹرنے سابق نائب صدرجگدیپ دھنکھڑکے لیے 34 اے پی جے عبدالکلام مارگ پرواقع ایک ٹائپ 8 بنگلہ بھی خالی کرا لیا گیا ہے۔ اسے ان کے لئے الاٹ کردیا گیا ہے، لیکن اسے تیارہونے میں تقریباً 3 ماہ لگیں گے۔

جگدیپ دھنکھڑ1993 میں اجمیرضلع کی کشن گڑھ اسمبلی سیٹ سے کانگریس کے ٹکٹ پررکن اسمبلی منتخب کئے گئے تھے۔ اسی وجہ سے انہوں نے پنشن کے لئے درخواست دی ہے۔

ایک نجی نیوز ایجنسی کو دیے گئے انٹرویو میں امت شاہ نے کہا:"دھنکڑ کا استعفیٰ خود میں واضح ہے۔ انہوں نے اپنے خط میں صحت کی خرابی کو وجہ بتایا ہے اور اپنی شاندار مدتِ کار کے لیے وزیراعظم، وزراء اور حکومت کا شکریہ ادا کیا ہے۔"

نامزدگی سے قبل، یعنی بدھ کو ‘انڈیا اتحاد’ کے رہنماؤں نے بی. سدرشن ریڈی کے اعزاز میں ایک استقبالیہ تقریب منعقد کی۔ یہ تقریب پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس کے سنٹرل ہال میں ہوئی، جہاں ریڈی کو باقاعدہ خراج تحسین پیش کیا گیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے ان کی امیدواری کو ایک تاریخی اور اہم قدم قرار دیا۔

سنجے راؤت نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو ایک خط لکھا ہے جس میں انہوں نے سابق نائب صدر جمہوریہ جگدیپ دھن کھڑ کے اچانک استعفیٰ اور اس کے بعد سے ان کے منظرعام سے غائب ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

دھنکھڑسے پہلے کرن رجیجو عدلیہ سے ٹکراؤ کی وجہ سے وزیر قانون کا عہدہ کھو چکے ہیں۔ ملک کے نائب صدر جیسے عہدے سے استعفیٰ دینے کی وجہ عام نہیں ہے، لیکن جگدیپ دھنکھڑ کو لے کر بی جے پی کی سوچ بدلنے کی وجہ بڑی ہے۔