Bharat Express DD Free Dish

Pappu Yadav

بہار کے ضلع پورنیہ سے رکنِ پارلیمنٹ پپو یادو کی مشکلات کم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔ 31 سال پرانے ایک معاملے میں گرفتاری کے بعد ایم پی-ایم ایل اے کورٹ نے انہیں ضمانت تو دے دی ہے، مگر اس کے باوجود وہ فی الحال جیل سے باہر نہیں آ سکیں گے۔

میڈیکل جانچ مکمل ہونے کے بعد پپو یادو کو گردنی باغ تھانے لایا جائے گا۔ اس کے بعد آج 11 بجے کے بعد انہیں ایم پی-ایم ایل اے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ بتایا جا رہا ہے کہ انہیں گزشتہ رات دیر گئے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کارروائی کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل تیز ہو گئی ہے،

بہارکے پورنیہ کے رکن پارلیمنٹ پپو یادو کو 31 سال پرانے معاملے میں پولیس نے گرفتارکرلیا ہے۔ رکن پارلیمنٹ پپویادو رات کا حوالہ دیتے رہے، لیکن پولیس نے ایک نہیں سنی اورانہیں گرفتارکرکے لے گئی۔

دہلی میں راہل گاندھی اور مَلیکارجن کھڑگے نے بہار کانگریس کے لیڈروں کے ساتھ ایک طویل اجلاس کیا۔ راہل گاندھی نے واضح طور پر کہا کہ بہار میں پارٹی کو مقامی لیڈروں کو ہی مضبوط بنانا ہوگا۔ اجلاس میں پپو یادو نے آر جے ڈی سے الگ شناخت بنانے کی وکالت کی۔

حال ہی میں آر جے ڈی کی جانب سے تیجسوی یادو نے وعدہ کیا تھا کہ اگر عظیم اتحاد کی حکومت بنتی ہے تو 20 ماہ کے اندر سرکاری ملازمتیں فراہم کریں گے۔ یہ کیسے ممکن ہے؟

رکن پارلیمنٹ پپو یادو نے کہا کہ بہار میں پہلے دس انتخابات موجودہ ووٹر لسٹ کی بنیاد پر ہوئے ہیں تو اب یہ اچانک نظر ثانی کیوں؟ پپو یادو نے اس عمل کو آئینی اور جمہوری اقدار کے خلاف قرار دیتے ہوئے اسے شفاف اور منصفانہ بنانے کا مطالبہ کیا۔

پپو یادو نے کہا کہ یہ آزادی کی دوسری جنگ ہے۔ ہمیں عوام کے درمیان جا کر ان کے حقوق کے لیے لڑنا ہے۔ اگر ضرورت پڑی تو میں اپوزیشن سے درخواست کروں گا کہ وہ سڑکوں پر آکر اس تاناشاہی کے خلاف آواز بلند کریں۔

ناگپورتشدد معاملے میں اب سیاسی بیان بازی تیزہوگئی ہے۔ پورنیہ سے رکن پارلیمنٹ پپویادونے کہا کہ وشوہندو پریشداوربجرنگ دل کے لوگ فسادی ہیں۔ ان لوگوں کوحکومت کا تحفظ حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پرپابندی لگانی چاہئے۔

پپو یادو نے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے اپیل کی کہ انتخابات سے پہلے جو مفت اسکیموں کی مارکیٹنگ کی جارہی ہے اسے روکا جائے۔ اس سے جمہوریت کمزور ہوتی ہے اور صرف عوام پسند چیزیں سامنے آتی ہیں جبکہ اصل مسائل پیچھے رہ جاتے ہیں۔

پپو یادو نے کہا کہ سماج میں تبدیلی لانے کے لیے ہمیں صحیح سمت میں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بہار اور دیگر دیہی علاقوں کے مسائل کا خاص طور پر ذکر کیا اور کہا کہ ان علاقوں میں مواقع کی کمی اور تعلیم کی کمی اس کی بنیادی وجوہات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر لوگ صحیح سمت میں کام کریں تو بہار اور دیگر ریاستیں بھی ترقی کر سکتی ہیں۔