Bharat Express DD Free Dish

Pakistan

جب سے طالبان نے کابل میں اقتدار سنبھالا ہے، پاکستان میں سرحد پار سے دہشت گرد سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان صوبوں میں، جو افغانستان سے جڑے ہیں، وہاں ایسے واقعات زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں۔

ایران-اسرائیل تنازعہ کے درمیان پاکستان نے اشارہ دیا ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ اپنے دفاعی معاہدے کی وجہ سے اس تنازعہ میں ملوث ہوسکتا ہے۔ وزیرخارجہ اسحاق ڈارنے ایران کو سعودی عرب پر حملہ کرنے سے خبردار کیا ہے۔ دریں اثنا، مشرق وسطیٰ میں میزائل حملے اور فوجی کارروائی میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق افغانستان کے ساتھ جاری تنازع میں بھارت کو گھسیٹنا پاکستان کی حکمت عملی کا حصہ ہے تاکہ داخلی بحران، معاشی مشکلات، ٹی ٹی پی کے بڑھتے خطرے اور سابق وزیر اعظم عمران خان سے متعلق سیاسی تنازع سے عوام کی توجہ ہٹائی جا سکے۔

مولا بخش بلوچ نے کہا کہ پاکستان نے اس بار حملہ کر کے بڑی غلطی کی ہے اور اس کے نتائج خود اسے بھگتنا پڑیں گے۔ افغانستان اپنے عوام کے تحفظ کے لیے سنجیدگی سے اقدامات کرتا ہے، اس لیے نقصان پاکستان کو ہی ہوگا۔

پاکستان کے معروف اخبار ڈان کی رپورٹ کے مطابق کراچی سمیت ملک کے بڑے شہروں میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے۔ کراچی پولیس کے ترجمان کے مطابق ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آزاد خان نے شہر بھر میں سکیورٹی سخت کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

پی ٹی آئی لیڈران نے الزام عائد کیا کہ موجودہ حکومت نے عمران خان کی بیماری کے معاملے میں ’’پراسرار‘‘ رویہ اختیار کیا۔ ابتدا میں بیماری سے انکار کیا گیا اور بعد میں سی آر وی او کی تشخیص سامنے آنے پر بیان جاری کیا گیا۔

گزشتہ سال خیبر پختونخوا میں دہشت گردانہ حملوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کی سالانہ سکیورٹی رپورٹ اس کی تصدیق کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، خیبر پختونخوا میں گزشتہ سال تشدد میں کافی اضافہ درج کیا گیا اور اس سے ہلاکتوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔

یو این اے ایم اے نے پاکستانی ایئر اسٹرائک کی شدید مذمت کرتے ہوئے تمام فریقین سے بین الاقوامی انسانی قوانین کی پابندی اور شہریوں کی حفاظت یقینی بنانے کی اپیل کی ہے۔ ساتھ ہی اس معاملے میں شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا اور زور دیا کہ جائے وقوعہ پر حفاظتی اقدامات بڑھائے جائیں۔

معروف انگلش اخبار ڈان کے مطابق، ریسکیو-1122 کے ترجمان حسن الحسیب خان نے بتایا کہ دھماکہ بلاک ای میں بسم اللہ ریزیڈنسی کے اوپری فلور پر سحری کے وقت ہوا اور دھماکے کی آواز میلوں دور تک سنی گئی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔ کچھ اور حملہ آور بھی موجود تھے۔ اسی دوران سکیورٹی فورسز نے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے پانچ دہشت گردوں کو مار گرایا۔