Bharat Express DD Free Dish

Pakistan

 پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے سے ان کی فیملی پہلے ہی تشویش میں تھی۔ اب حکومت کے ایک اورفیصلے نے ان کی پریشانی میں اضافہ کر دیا ہے۔ فیملی کا کہنا ہے کہ عمران خان کے بارے میں کچھ بڑا چھپایا جا رہا ہے کیونکہ پاکستان میں ٹی وی پران کے نام لینے پرپابندی ہے اورانٹرنیٹ سے ان کی تصاویر بھی ہٹا دی گئی ہیں۔

گزشتہ رات تقریباً 12 بجے، صوبہ خوست کی ضلع گربزو کے علاقے مغلګۍ میں پاکستانی جارح افواج نے ایک مقامی شہری، ولایت خان ولد قاضی میر کے گھر پر بمباری کی، جس کے نتیجے میں 9 بچے (5 لڑکے اور 4 لڑکیاں) اور ایک خاتون شہید ہو گئی اور ان کا گھر تباہ ہو گیا۔

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے دہلی دھماکے کے حوالے سے ایک اشتعال انگیز بیان دیتے ہوئے بھارت اور افغانستان دونوں کو کھلی دھمکی دے ڈالی۔ انہوں نے کہا، ”کل تک یہ ایک گیس سلنڈر کا دھماکہ تھا اور آج وہ اسے غیر ملکی سازش قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بھارت کسی بھی وقت پاکستان پر الزام لگا سکتا ہے، لیکن ہم دو محاذوں پر لڑنے کے لیے تیار ہیں“۔

موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے پاکستان میں داخلی سلامتی کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ جس ٹی ٹی پی کو وجود میں لانے میں پاکستان نے خود اہم کردار ادا کیا تھا، آج وہی ٹی ٹی پی پاکستان کے گلے کا کانٹا بن چکی ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی اور بڑھتی ہوئی لفظی جنگ کے باوجود دونوں ملکوں نے بالآخر قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں جنگ بندی (سیز فائر) پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ تاہم، زمینی حالات میں کوئی خاص بہتری تاحال دکھائی نہیں دے رہی۔

پولیس افسران نے بتایا کہ موٹر سائیکل پر نصب دھماکہ خیز مواد کو ریموٹ کے ذریعے اڑایا گیا۔ سیکورٹی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنے کا کام شروع کر دیا ہے۔

قطر کے بیان کے مطابق، پاکستان اور افغانستان پائیدار امن و استحکام کو مضبوط کرنے کے لیے ایک نظام قائم کرنے پر متفق ہوئے ہیں، اور جنگ بندی کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے مزید مذاکرات طے کیے گئے ہیں۔ افغانستان اور پاکستان دونوں کے وفود قطر اور ترکی کی ثالثی میں دوحہ میں مذاکرات کے لیے موجود تھے۔

قطر کے بیان کے مطابق، دونوں ہمسایہ ممالک مستقل امن اور استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے ایک نظام قائم کرنے پر بھی متفق ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ، آنے والے دنوں میں جنگ بندی کی مسلسل عملداری کو یقینی بنانے کے لیے پہلے سے مذاکرات مقرر کیے گئے ہیں۔

غزہ پلان کے خلاف تحریک لبیک نے اسلام آباد کوچ کرنے کا اعلان کیا تھا، وہاں جاکرٹی ایل پی کارکنان یوایس سفارت خانہ کے باہر احتجاجی مظاہرہ کرنا چاہتے تھے، لیکن شہباز حکومت نے انہیں جانے سے روک دیا۔

دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ آس پاس کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور دروازے اکھڑ گئے۔ پولیس اور ریسکیو ادارے فوری طور پر موقع پر پہنچے اور زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے، جب کہ ایف سی کے اضافی دستے بھی جائے وقوعہ پر تعینات کر دیے گئے ہیں۔