Bharat Express DD Free Dish

Pakistan

قطر کے بیان کے مطابق، دونوں ہمسایہ ممالک مستقل امن اور استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے ایک نظام قائم کرنے پر بھی متفق ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ، آنے والے دنوں میں جنگ بندی کی مسلسل عملداری کو یقینی بنانے کے لیے پہلے سے مذاکرات مقرر کیے گئے ہیں۔

غزہ پلان کے خلاف تحریک لبیک نے اسلام آباد کوچ کرنے کا اعلان کیا تھا، وہاں جاکرٹی ایل پی کارکنان یوایس سفارت خانہ کے باہر احتجاجی مظاہرہ کرنا چاہتے تھے، لیکن شہباز حکومت نے انہیں جانے سے روک دیا۔

دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ آس پاس کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور دروازے اکھڑ گئے۔ پولیس اور ریسکیو ادارے فوری طور پر موقع پر پہنچے اور زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے، جب کہ ایف سی کے اضافی دستے بھی جائے وقوعہ پر تعینات کر دیے گئے ہیں۔

بلوچستان پاکستان کا سب سے غیر مستحکم اور شورش زدہ علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ دھماکے سے چند گھنٹے قبل بھی پاکستانی فوج کے اہلکار ریلوے ٹریک کی صفائی کے دوران ایک اور بم دھماکے میں زخمی ہو گئے تھے۔

عمران خان نے مزید کہا کہ جنرل منیر نے آرمی چیف بننے کے بعد افغانستان کے ساتھ تعلقات خراب کرنے کی دانستہ کوشش کی، افغان شہریوں کو ملک بدر کیا، ڈرون حملے کروائے اور ایسے اقدامات کیے جن سے خطے میں کشیدگی بڑھی۔

اس دوران پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے جیو نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو پاکستان کا ایٹمی پروگرام بھی سعودی عرب کو ’’دستیاب‘‘ ہوگا۔

چین کی مدد سے پاکستان نے اقوام متحدہ میں بلوچستان سے متعلق دوتنظیموں پرپابندی لگانے کی تجویزپیش کی تھی، لیکن امریکہ، فرانس اوربرطانیہ نے پاکستان کی اس تجویزکوویٹوکردیا۔

پاکستان طویل عرصے سے یہ کہتا آیا ہے کہ اسے افغانستان کے کچھ ’گروپوں‘ سے خطرہ ہے، جن میں ٹی ٹی پی اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) بھی شامل ہیں۔ گزشتہ برسوں میں زیادہ تر حملوں کی ذمہ داری پاکستانی طالبان، یعنی تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے قبول کی ہے۔

پاکستان کے پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمٰی بخاری کے مطابق صوبے میں ریکارڈ توڑ بارش کے نتیجے میں اب تک 854 افراد جاں بحق جب کہ 1,100 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

رہائشیوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، دریاؤں اور ندی نالوں سے دور رہیں اور میڈیا، موبائل اور NDMA ڈیزاسٹر الرٹ ایپلی کیشن کے ذریعے سرکاری الرٹس پر نظر رکھیں۔ حکام نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ تیز ہواؤں اور آسمانی بجلی کے ساتھ ہونے والی شدید بارشوں سے کچے مکانات، بجلی کے کھمبے، ہورڈنگز، گاڑیاں اور سولر پینلز سمیت کمزور ڈھانچے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔