Bharat Express DD Free Dish

Pakistan

بلوچستان پاکستان کا سب سے غیر مستحکم اور شورش زدہ علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ دھماکے سے چند گھنٹے قبل بھی پاکستانی فوج کے اہلکار ریلوے ٹریک کی صفائی کے دوران ایک اور بم دھماکے میں زخمی ہو گئے تھے۔

عمران خان نے مزید کہا کہ جنرل منیر نے آرمی چیف بننے کے بعد افغانستان کے ساتھ تعلقات خراب کرنے کی دانستہ کوشش کی، افغان شہریوں کو ملک بدر کیا، ڈرون حملے کروائے اور ایسے اقدامات کیے جن سے خطے میں کشیدگی بڑھی۔

اس دوران پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے جیو نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو پاکستان کا ایٹمی پروگرام بھی سعودی عرب کو ’’دستیاب‘‘ ہوگا۔

چین کی مدد سے پاکستان نے اقوام متحدہ میں بلوچستان سے متعلق دوتنظیموں پرپابندی لگانے کی تجویزپیش کی تھی، لیکن امریکہ، فرانس اوربرطانیہ نے پاکستان کی اس تجویزکوویٹوکردیا۔

پاکستان طویل عرصے سے یہ کہتا آیا ہے کہ اسے افغانستان کے کچھ ’گروپوں‘ سے خطرہ ہے، جن میں ٹی ٹی پی اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) بھی شامل ہیں۔ گزشتہ برسوں میں زیادہ تر حملوں کی ذمہ داری پاکستانی طالبان، یعنی تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے قبول کی ہے۔

پاکستان کے پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمٰی بخاری کے مطابق صوبے میں ریکارڈ توڑ بارش کے نتیجے میں اب تک 854 افراد جاں بحق جب کہ 1,100 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

رہائشیوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، دریاؤں اور ندی نالوں سے دور رہیں اور میڈیا، موبائل اور NDMA ڈیزاسٹر الرٹ ایپلی کیشن کے ذریعے سرکاری الرٹس پر نظر رکھیں۔ حکام نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ تیز ہواؤں اور آسمانی بجلی کے ساتھ ہونے والی شدید بارشوں سے کچے مکانات، بجلی کے کھمبے، ہورڈنگز، گاڑیاں اور سولر پینلز سمیت کمزور ڈھانچے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک کینیڈین کمپنی بیرک کو 300 ملین ڈالر کا قرضہ دے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ بلوچستان کی صوبائی حکومت کو ایکویٹی کنٹریبیوشن کو پورا کرنے کے لیے 110 ملین ڈالر ملیں گے۔ یہ پاکستان کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سے اس کی معیشت کو مضبوط کرنے کی بھی امید ہے۔

ملک بھر میں مانسون سے ہوئی تباہی کے بیچ، پاکستان کی عوامی تحریک پارٹی کے لیڈران نے خیبرپختونخوا (کے پی) اور پاکستان کے زیر قبضہ گلگت بلٹستان میں شدید بارشوں کے دوران شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہنے پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے، جہاں 300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

عمران خان کے بیٹے قاسم اورسلیمان اپنے والد کی حمایت میں ملک گیرتحریک میں شامل نہیں ہوسکیں گے کیونکہ ان کے اوور سیزسٹیزن کارڈ یا توگم ہوچکے ہیں، یا ختم ہوچکے ہیں۔ عمران خان کی بہن کے مطابق، ان دونوں نے نئے کارڈزکے لئے درخواستیں دی ہیں تاہم 5 اگست تک ان کے ملنے کا امکان نہیں ہے۔