Bharat Express DD Free Dish

Pakistan Cricket Team

ٹورنامنٹ میں پاکستان کی بیٹنگ خاص طور پر مایوس کن رہی۔ صاحبزادہ فرحان کے علاوہ کوئی بھی بیٹر مستقل بڑی اننگز کھیلنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ ٹیم سلیکشن اور بیٹنگ آرڈر بھی مسلسل تنقید کی زد میں رہا۔

فرحان نے گروپ اسٹیج کی اپنی شاندار فارم کو انگلینڈ کے خلاف بھی جاری رکھا۔ ایک اینڈ سے وکٹ گرنے کے باوجود وہ کریز پر ڈٹے رہے اور 45 گیندوں میں 63 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔ اپنی اس اننگز کے دوران فرحان نے 7 چوکے اور 2 چھکے لگائے۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے واضح طورپرپاکستان اوربنگلہ دیش کی ہندوستان کے ساتھ ٹرائی سیریزکے مطالبہ کومسترد کردیا ہے۔ آئی سی سی، پی سی بی اور بی سی بی کی لاہورمیں ہوئی حالیہ میٹنگ میں پاکستان اوربنگلہ دیش کی طرف سے ہندوستان کے ساتھ ٹرائی سیریزکھیلنے کا مطالبہ بھی رکھا گیا تھا۔

ہندوستان اورپاکستان کا میچ 15 فروری کوہونا ہے، لیکن پاکستانی وزیراعظم نے اعلان کردیا ہے کہ ان کی ٹیم یہ میچ نہیں کھیلے گی۔ اب سری لنکا کرکٹ بورڈ نے اس مسئلے پرپی سی بی کوای-میل لکھا ہے۔

ٹی-20 ورلڈ کپ 2026 کی بائیکاٹ کی خبروں کے درمیان پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹورنا منٹ کے لئے 15 رکنی ٹیم کا اعلان کردیا ہے۔ ٹی-20 ورلڈ کپ کے لئے پاکستانی ٹیم میں سابق کپتان بابراعظم کو بھی جگہ ملی ہے۔

ویبھو نے 23 گیندوں میں 3 چھکوں اور 2 چوکوں کی مدد سے 40 رنز بنائے، جبکہ آیوش مہاترے نے محاذ سنبھالتے ہوئے 27 گیندوں میں 6 چھکے اور 2 چوکوں کے ساتھ 53 رنز کی دھواں دار اننگز کھیلی۔

نیوزی لینڈ نے ویلنگٹن میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میں ویسٹ انڈیز کو 9 وکٹوں سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل کر لی ہے۔ اس شاندار کارکردگی سے نیوزی لینڈ آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ پوائنٹس ٹیبل میں اب تیسرے نمبر پر پہنچ گئی ہے۔ ڈبلیو ٹی سی کے تازہ پوائنٹس ٹیبل میں بھارت کو زبردست نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ مسلسل غیر مستقل کارکردگی کی وجہ سے ٹیم چھٹے مقام پر پہنچ گئی ہے۔

پاکستان کی سب سے امیر کھلاڑی ثنا میر ہیں۔ ثنا پاکستان کے لئے انٹرنیشنل کرکٹ میں تقریباً 15 سال کپتانی کرچکی ہیں۔ اس کے بعد اب وہ کمینٹیٹر کے طورپر نظرآتی ہیں۔

پاکستان کرکٹ میں ایک بار پھر نیا تنازعہ شروع ہو گیا ہے۔ وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان نے کپتانی چھننے اور سینٹرل کنٹریکٹ میں تنزلی کے بعد پی سی بی سے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کنٹریکٹ پر دستخط کرنے سے انکار کرتے ہوئے اپنی کیٹیگری A بحال کرنے اور کپتانوں کو واضح مدتِ کار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

رباڈا نے آخری نمبر پر بلے بازی کرتے ہوئے 61 گیندوں پر 71 رنز کی دھماکہ خیز اننگز کھیلی۔ اس اننگز نے میچ میں جنوبی افریقہ کی واپسی کو یقینی بنایا۔ رباڈا اپنی بلے بازی سے کافی خوش نظر آئے۔