Bharat Express DD Free Dish

Pahalgam Terror Attack

سی آر پاٹل نے یہ بھی کہا کہ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے کہا تھا کہ تیسری عالمی جنگ پانی کے لیے لڑی جا سکتی ہے، لیکن انہیں یقین تھا کہ ہندوستان پانی کے لیے کوئی جنگ نہیں لڑے گا

حکومت بہار کے انتخابات میں اس دہشت گردانہ حملے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرے گی۔ پاکستان میں نیہا سنگھ راٹھور کی اس پوسٹ کو لوگ شیئر کر رہے ہیں۔ وہاں کے رہنما اور حکومتی ادارے ان کے بیان کی حمایت کر رہے ہیں۔

'ٹی وی چینلز پر کچھ اینکر کشمیریوں کے خلاف بول رہے ہیں۔ وہ بے شرم ہیں۔ اگر کشمیر ہمارا اٹوٹ انگ ہے اور رہے گا تو کشمیری بھی ہندوستان کا اٹوٹ انگ ہیں۔ ہم ان پر شک کیسے کرسکتے ہیں؟

لکھی سرائے کے پولیس سپرنٹنڈنٹ اجے کمار نے اتوار کے روز بتایا کہ پروگرام میں شامل لوگوں سے پوچھ گچھ کی گئی ہے۔ پروگرام کی اصل ویڈیو کا جائزہ لیا گیا ہے۔ کینڈل مارچ کے دوران سبھی جگہ ’پاکستان مردہ باد‘ کے نعرے لگائے گئے۔ جہاں کا ویڈیو وائرل ہوا ہے، وہاں ایک جگہ ایک بار ’پاکستان زندہ باد‘ کا نعرہ لگایا گیا ہے۔

مرکزی وزیر مملکت جتیندر سنگھ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پہلگام میں جو واقعہ ہوا ہے اس کا نوٹس پی ایم مودی نے خود لیا ہے۔ وہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ جو بھی مناسب کارروائی ہوگی، حکومت اس پر غور کرے گی۔

22 اپریل کو جموں و کشمیر کے پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کا ذکر کرتے ہوئے، نشی کانت دوبے نے کہا کہ ’پاکستانی فوج‘ نے ہندوستانیوں کو، خاص طور پر ہندوؤں کو چن چن کر مارا ہے۔ مودی حکومت اس حملے کا بدلہ ہر حال میں لے گی۔

عمر عبداللہ نے کہا کہ ’’مجرموں کو سزا دیں، ان پر رحم نہ کریں۔ لیکن بے گناہ لوگوں کو کولیٹرل ڈیمیج کا شکار نہ ہونے دیں۔‘‘

حکومت نے کہا ہے کہ اس حملے کے پیچھے پڑوسی ملک پاکستان کا ہاتھ ہے۔ پہلگام واقعے کے بعد، کابینہ کمیٹی برائے سلامتی کے اجلاس میں مرکزی حکومت نے کئی سخت اور بڑے فیصلے لیے، جن میں سندھ طاس معاہدہ منسوخ کرنا، پاکستان سے اپنے سفارت کاروں کو واپس بلانا اور ہندوستان میں پاکستانی سفارت خانے میں عملے کی تعداد 55 سے کم کرکے 30 کرنا اہم تھے۔

برکس کا یہ اجلاس برازیل کی میزبانی میں منعقد ہو رہا ہے، اور اس میں عالمی معاشی چیلنجز، تجارت، اور سلامتی جیسے موضوعات پر بات چیت متوقع ہے۔ بھارت کی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے، اور وہ برکس کے اندر ایک اہم کھلاڑی کے طور پر جانا جاتا ہے۔

انٹیلی جنس ایجنسی آئی بی نے دہلی پولیس کو ایک اہم فہرست سونپی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ ملک کے دارالحکومت میں تقریباً 5000 پاکستانی مقیم ہیں۔ فارن ریجنل رجسٹریشن آفس (ایف آر آر او) کی طرف سے تیار کردہ یہ فہرست دہلی پولیس کی اسپیشل برانچ کے ساتھ شیئر کی گئی ہے …