Bharat Express DD Free Dish

Opposition Alliance

بجٹ سیشن کے دوسرے مرحلے کی شروعات 9 مارچ سے ہونے جا رہی ہے۔ اس دن لوک سبھا اسپیکراوم برلا کے خلاف اپوزیشن کے ذریعہ دیئے گئے عہدہ سے ہٹانے کی تجویز پربحث ہوگی۔ اس تجویزکے ذریعہ اپوزیشن نے اوم برلا پرایوان کی کارروائی کے دوران کھل کر بھید بھاو کرنے کا الزام لگایا ہے۔

وزیراعظم مودی نے راجیہ سبھا میں وکست بھارت کے اپنے وژن کوشیئرکرتے ہوئے کہا کہ ملک کی نوجوان آبادی، معیشت اور عالمی قیادت پر زور دیا۔ انہوں نے ہندوستان کودنیا کے کئی ممالک کے لئے ایک قابل اعتماد پارٹنر قراردیا۔ اپوزیشن کے ہنگامے کے درمیان پی ایم مودی نے کانگریس پارٹی کونشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت مستقبل پرمبنی پالیسیوں پرعمل پیرا ہے۔

مرکزی حکومت کی جانب سے تمام نئے اسمارٹ فونز میں سنچار ساتھی ایپ کو پری انسٹال کرنے کے حکم کے بعد ملک بھر میں شدید تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اسے ’’جاسوسی ایپ‘‘ قرار دیتے ہوئے شہریوں کی نجی آزادی پر حملہ بتایا ہے، جبکہ حکومت نے صاف کہا ہے کہ یہ ایپ مکمل طور پر آپشنل ہے اور یوزر چاہے تو اسے ہٹا بھی سکتا ہے۔

گہلوت نے اعلان کیا ہے کہ مہاگٹھ بندھن کل ایک پریس کانفرنس کرے گا تاکہ اتحاد کی طاقت اور یکجہتی کو واضح کیا جا سکے۔ انہوں نے بی جے پی پر ’اسپانسرڈ مہم‘ چلانے کا بھی الزام عائد کیا ہے۔

لوک سبھا اسپیکراوم برلا نے حال ہی میں مانسون اجلاس کی تکمیل کے بعد اپوزیشن کوایک پیغام دیا۔ انہوں نے کہا کہ اختلاف رائے جمہوریت کی مضبوطی ہے۔ تاہم ارکان کوایوان کے اندراورباہرضابطہ اخلاق پرعمل کرنا چاہئے۔ عوام ہمارے قول وفعل کو دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ آزادی اظہار کو برقرار رکھتے ہوئے ایوان کے وقارکو برقرار رکھیں۔

بہارمیں ایس آئی آر اور ووٹ چوری کے معاملے پراپوزیشن جماعتوں نے ایک بارپھرالیکشن کمیشن کونشانہ بنایا ہے۔ اجتماعی پریس کانفرنس میں اپوزیشن پارٹیوں کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کوان کے سوالات کا جواب دینا چاہئے تھا، لیکن وہ پارٹیوں سے سوالات پوچھ رہے ہیں۔

پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں اپوزیشن کا ہنگامہ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ ایس آئی آرسمیت مختلف مسائل پرلوک سبھا اورراجیہ سبھا میں کافی ہنگامہ ہوا، جس کی وجہ سے کارروائی دوپہرتک ملتوی کرنی پڑی۔ ناراض لوک سبھا اسپیکراوم برلا نے ممبران پارلیمنٹ کو خبردارکیا کہ عوام نے انہیں سرکاری املاک کوتباہ کرنے کے لئے منتخب نہیں کیا ہے اوراگرحالات بہترنہیں ہوئے تو سخت فیصلے کرنے ہوں گے۔

آئندہ ماہ 9 ستمبرکو ہونے والا نائب صدرعہدے کا الیکشن این ڈی اے کی طرف سے راجناتھ سنگھ کی نگرانی میں ہوگا۔ این ڈی اے نے اتوار کے روز اپنے امیدوار کے نام کا اعلان کردیا تھا۔ تاہم اپوزیشن کی طرف سے ابھی تک کسی امیدوار کا نام سامنے نہیں آیا ہے۔

اپوزیشن کی آئندہ کی حکمت عملی طے کرنے کے حوالے سے یہ میٹنگ انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔ سب کی نظریں اس پر لگی ہوئی ہیں کہ اپوزیشن کوئی ٹھوس قدم اٹھائے گی یا یہ صرف ایک رسمی بحث ہی رہ جائے گی۔

پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے دوران جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا محمود اسعد مدنی کی دعوت پر بدھ کی شام دہلی کے شنگریلا ہوٹل میں مختلف سیاسی پارٹیوں بالخصوص کانگریس پارٹی، سماج وادی پارٹی، ٹی ایم سی، بیجوجنتا دل، ڈی ایم کے، آل انڈیا مسلم لیگ وغیرہ کے سرکردہ ممبران پارلیمنٹ جمع ہوئے۔