Bharat Express DD Free Dish

Opposition Alliance

اپوزیشن کی آئندہ کی حکمت عملی طے کرنے کے حوالے سے یہ میٹنگ انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔ سب کی نظریں اس پر لگی ہوئی ہیں کہ اپوزیشن کوئی ٹھوس قدم اٹھائے گی یا یہ صرف ایک رسمی بحث ہی رہ جائے گی۔

پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے دوران جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا محمود اسعد مدنی کی دعوت پر بدھ کی شام دہلی کے شنگریلا ہوٹل میں مختلف سیاسی پارٹیوں بالخصوص کانگریس پارٹی، سماج وادی پارٹی، ٹی ایم سی، بیجوجنتا دل، ڈی ایم کے، آل انڈیا مسلم لیگ وغیرہ کے سرکردہ ممبران پارلیمنٹ جمع ہوئے۔

آر جے ڈی، کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں سمیت اپوزیشن کے ایم ایل ایز نے حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ انہوں نے بی جے پی اور الیکشن کمیشن پر ووٹر لسٹ پر نظرثانی کے عمل کے ذریعے ’’سازش‘‘ کرنے کا الزام لگایا اور اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس آج سے شروع ہورہا ہے۔ وزیر اعظم مودی سیشن سے پہلے ملک کو پیغام دیں گے۔ اپوزیشن پارٹی کانگریس نے مرکزی حکومت کو گھیرنے کے لیے 8 ایشوزکی فہرست تیارکی ہے۔ ایسے میں پہلے دن ہی پارلیمنٹ میں ہنگامہ آرائی کا امکان ہے کیونکہ اپوزیشن پارٹی سخت رویہ دکھا سکتی ہے۔

حزب اختلاف کی جماعتوں نے اس میٹنگ ان اہم مسائل پر تبادلۂ خیال کیا جو وہ اجلاس کے دوران اٹھانے کا ارادہ رکھتے ہیں، جن میں پہلگام دہشت گردانہ حملہ، آپریشن سندور اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے متنازعہ تبصرے وغیرہ شامل ہیں۔

انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں"وقف اراضی کی حفاظت" پر منعقدہ عوامی اجلاس میں ہندوستان بھر میں وقف املاک کو بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لئے سیاسی رہنماؤں، شہری حقوق کے کارکنوں، قانونی ماہرین، ماہرین تعلیم، اورمتعلقہ شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

بی جے پی کے راجیہ سبھا رکن سدھانشو تریویدی نے کہا کہ ہندوستانی میڈیا میں کسی ایک پاکستانی رہنما کا ایک بھی بیان ہائی لائٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف ہمارے انڈ ی اتحاد کے تمام لیڈروں کے بیانات وہاں کے میڈیا میں چلائے جا رہے ہیں۔

وقف ترمیمی بل بدھ کو لوک سبھا میں پیش کیا جائے گا۔ کانگریس اس بل کی مخالفت کررہی ہے۔ اس نے اپنے اراکین پارلیمنٹ کی میٹنگ بلائی ہے۔ راہل گاندھی کے ساتھ اراکین پارلیمنٹ کی یہ میٹنگ بدھ کی صبح 9:30 بجے ہوگی۔

یوپی کے ڈومریا گنج کے رکن پارلیمنٹ جگدمبیکا پال نے کہا کہ وقف ترمیمی بل 2024 کواسی پارلیمنٹ سیشن میں پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وقف قانون کوئی نیا قانون نہیں ہے، لیکن اپوزیشن کے اراکین پارلیمنٹ غلط برتاؤکررہے ہیں اورغلط طریقے سے اس کی تشریح کررہے ہیں۔

انڈیا الائنس نے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں راجیہ سبھا کے چیئرمین جگدیپ دھنکھڑ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا نوٹس دے دیا ہے۔