Bharat Express DD Free Dish

Nuh Violence

رمضان کے مہینے میں ڈیرھ سال سے قید توفیق کے اہل خانہ کی خوشی دوبالا ہوئی۔ والدین نے صدرجمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی کا شکریہ ادا کیا ہے۔

پولیس افسر نے بتایا کہ یہ ویڈیو یکم اپریل کی ہے اور جس شخص کو پیٹا جا رہا ہے وہ فرید آباد کے سرور پور کا رہنے والا ہے۔ شمو نامی شخص پر الزام تھا کہ اس نے اپنے محلے کی دو لڑکیوں کو چاکلیٹ دے کر اپنے گھر بلایا اور مقامی لوگوں کو شک تھا کہ وہ ان کا جنسی استحصال کرنا چاہتا ہے۔

پولیس نے اس سے قبل مامن خان پر تشدد بھڑکانے اور سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز پوسٹس شیئر کرنے میں ملوث مشتبہ افراد کے ساتھ رابطے میں رہنے کا الزام لگایا تھا۔ اس کے علاوہ ایف آئی آر میں ان کے خلاف کچھ اور الزامات بھی ہیں۔

فریدآباد کے گئورکشک بٹو بجرنگی کے بھائی کی علاج کے دوران موت ہوگئی ہے۔ بٹو کے بھائی نے دعویٰ کیا تھا کہ کچھ لوگوں نے جلنے والی چیز ڈال کر اس کو آگ لگا دی تھی، جس کے بعد اسے اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ وہیں پولیس نے اس معاملے کی جانچ کے لئے ایس آئی ٹی کی تشکیل کی تھی۔

بٹو بجرنگی اور مہیش کی بیوی اسے بی کے ہسپتال لے گئی، جہاں سے اسے ریفر کر دیا گیا۔ فی الحال مہیش کا ایک پرائیویٹ اسپتال میں علاج چل رہا ہے

پولیس کے مطابق اس واقعے میں تین خواتین زخمی ہوئی ہیں، جنہیں علاج کے لیے اسپتال لے جایا گیا ہے۔

ملزمین کو صدرجمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی کی ہدایت پر قانونی امداد فراہم کی گئی تھی۔ اس سے قبل بھی جمعیۃ علماء ہند کے توسط سے 9 ملزمین کی ضمانت منظور ہوئی تھی۔ متذکرہ ملزمین کی ضمانت عرضداشتیں ایڈوکیٹ شوکت علی اورایڈوکیٹ ناجد خان نے داخل کی تھی۔

مبینہ گئورکشک مونومانیسر کی رہائی کے مطالبہ سے متعلق ہندو تنظیموں نے سڑک پرخوب ہنگامہ بھی کیا اورسائبرسٹی گروگرام میں زبردست احتجاجی مظاہرہ کرکے ڈی سی کو میمورنڈم سونپا۔ اس دوران تمام ہندو تنظیموں کے سینکڑوں کارکنان نے مونو مانیسر کو ضمانت دیئے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ملزم عارف شمیم کو صدرجمعیۃ علماء ہندمولانا ارشد مدنی کی ہدایت پر قانونی امداد فراہم کی گئی تھی، اس سے قبل جمعیۃ علماء ہند قانونی امدادکمیٹی کے توسط سے مقیم عالم اور فاروق کی ضمانت منظور ہوچکی ہے۔

جمعۃعلماء ہندکے صدرمولانا ارشدمدنی کی ہدایت پراسی ضمن میں ہوڈل سیکشن کے گاؤں سیولی کے قبرستان اورعیدگاہ کی مرمت کا کام مکمل ہوچکا ہے، ہوڈل سیکشن کے ہی حسن پورقصبہ کی ایک مسجد میں بھی شرپسندوں نے زبردست توڑپھوڑکی تھی اس کی بھی مرمت اورتزئین کاری کاکام مکمل ہوچکا ہے۔