Bharat Express DD Free Dish

NIA

نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (NIA) کے اہلکار لشکر طیبہ کے دو دہشت گردوں مشتاق اور نثار سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں جو فی الحال جموں کی جیل میں 2023 کے راجوری حملے سے متعلق کیس میں قید ہیں۔

26/11 ممبئی دہشت گردانہ حملہ کے ملزم تہورحسین رانا کو نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کی حراست کی مدت پوری ہونے کے بعد آج پیر(28 اپریل) کو دہلی کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس دوران این آئی اے کی ٹیم نے عدالت سے تہوررانا کی 12 دنوں کی حراست مانگی، جسے قبول کرتے ہوئے عدالت نے تہوررانا کو 12 دنوں کی این آئی اے ریمانڈ پربھیج دیا۔

ممبئی حملے 26 نومبر 2008 کو ہوئے تھے،  جب 10 دہشت گردوں نے تاج ہوٹل، اوبرائے ٹرائیڈنٹ، چھترپتی شیواجی ٹرمینس اور نریمن ہاؤس سمیت کئی مقامات پر حملہ کیا۔ اس حملے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ رانا پر لشکر طیبہ کے ساتھ مل کر حملے کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام ہے۔

ممبئی 26/11 حملے کے ماسٹر مائنڈ تہور حسین رانا نے اپنے اہل خانہ سے بات کرنے کی اجازت کے لیے عدالت سے رجوع کیا ہے۔

جیل میں تہور رانا کو باقی قیدیوں کی طرح ہی رکھا گیا ہے، اسے الگ سے کوئی خاص سہولت نہیں دی گئی ہے۔ تہور رانا کو دن میں پانچ وقت کی نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔

جانچ ایجنسی کواس بات کا خدشہ ہے کہ تہوررانا نے ہندوستان کے کئی شہروں کونشانہ بنانے کے لئے 26/11 ممبئی حملوں جیسی دہشت گردانہ سازش کی تھی۔ وہ جانچ میں تعاون نہیں کررہا ہے۔

ممبئی کے 26/11 دہشت گردانہ حملے کے اہم سازش کرنے والوں میں سے ایک تہوررانا جمعرات کی شام 6:22 بجے دہلی کے ایئرپورٹ پراترا۔ 10 منٹ بعد ہی این آئی اے نے اسے یواے پی اے کے تحت گرفتار کرلیا۔ اسے امریکی گلف اسٹریم جی-550 طیارہ کے ذریعہ دہلی کے پالم ٹیکنیکل ایئرپورٹ پرلایا گیا۔

26/11 ممبئی حملوں کا ماسٹر مائنڈ تہور حسین رانا ایک پاکستانی ڈاکٹر ہے۔ رانا پاکستان فوج میں بطور کیپٹن خدمات انجام دے چکا ہے۔ اس نے آئی ایس آئی میں شمولیت اختیار کی اور دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہوا۔

تہور رانا کو امریکہ سے حوالگی کے بعد ہندوستان لایا گیا۔ یہ گرفتاری برسوں کی سفارتی اور قانونی کوششوں کے بعد ممکن ہوئی ہے۔ تہور رانا کی امریکہ کو حوالگی روکنے کی تمام قانونی کوششیں، جس میں امریکی سپریم کورٹ میں ایک فوری اپیل بھی شامل ہے، ناکام رہی۔ اس کے بعد اسے خصوصی طیارے کے ذریعے لاس اینجلس سے ہندوستان لایا گیا۔

یہ جاننے کے لیے تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ ہیری نے کس اکاؤنٹ سے رقم وصول کی۔ این آئی اے ذرائع کے مطابق دہشت گرد دو دن پہلے شہر میں آیا تھا۔ اس لیے بس اسٹینڈ اور شہر کے دیگر ہوٹلوں کی جانچ کی جارہی ہے۔