Bharat Express DD Free Dish

NEET Paper Leak 2024

مرکزی تفتیشی ایجنسی (سی بی آئی) نے NEET UG 2024 پرچہ لیک معاملے میں عدالت کے سامنے ایک بڑا انکشاف کیا ہے۔ ایجنسی نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران مبینہ مرکزی سازش کار سنجیو مکھیا کے خلاف پرچہ چوری کرنے یا اسے تقسیم کرنے کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا۔ شواہد کی عدم موجودگی کے باعث سی بی آئی نے اس مقدمے میں انہیں کلین چٹ دے دی ہے۔

سپریم کورٹ نے کمیٹی کو معیاری آپریٹنگ طریقہ کار بنانے، امتحان کے مراکز کے قیام کے عمل کو بہتر بنانے، طلباء کی تصدیق کو مضبوط بنانے اور اس پورے عمل میں ٹیکنالوجی کی مدد سے متعلق تجاویز دینے کو کہا ہے۔

NEET-UG پیپر لیک کا تعلق بہار سے ہے، اب تک اس معاملے میں ایک درجن سے زیادہ ملزمین کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ یہ پیپر لیک کرنے والا گینگ کئی دیگر ریاستوں میں بھی سرگرم ہو سکتا ہے۔

پیر (15 جولائی) کو سپریم کورٹ نے NEET تنازعہ سے متعلق 'نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی' (NTA) کی طرف سے دائر کی گئی منتقلی کی درخواستوں پر سماعت کی۔ جس میں ہائی کورٹ میں دائر درخواستوں کو منتقل کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

پیپرلیک معاملے میں سی بی آئی اب تک 11 افراد کوگرفتارکرچکی ہے۔ جانچ ایجنسی نے 2 دن پہلے پٹنہ سے ایک امیدوارسمیت 2 مزید افراد کوگرفتارکیا تھا۔ وہیں اس کی طرف سے معاملے میں اب تک 6 ایف آئی آردرج کرائی جاچکی ہیں۔ 

نیٹ یوجی سی پیپرلیک کا معاملہ میں ایک طرف سی بی آئی جانچ چل رہی ہے اورکئی گرفتاریاں ہوچکی ہیں تووہیں اس کی سماعت سپریم کورٹ میں بھی ہو رہی ہے۔

NEET UG امتحان قلم اور کاغذ کے ذریعہ لیا جاتا ہے۔ اس پیپر کا فارمیٹ MCQ ہے، جس میں طلباء کو جواب منتخب کرنے کے اختیارات دیئے گئے ہیں۔ طلباء اپنے جوابات ایک OMR شیٹ پر لکھتے ہیں، جسے پھر اسکین کیا جاتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ NEET کیس کے دھاگے بہار، جھارکھنڈ، مہاراشٹر اور گجرات سے جڑے پائے گئے ہیں۔ کئی ملزمان کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ ای او یو ٹیم کی رپورٹ کے بعد مرکزی حکومت نے اس معاملے کی جانچ سی بی آئی کو سونپ دی ہے، جس پر کارروائی جاری ہے۔

بی جے ڈی کے راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ سسمیت پاترا نے کہا، "ہم نیٹ پر بحث چاہتے تھے۔ جب ایسا نہیں ہوا تو ہم ایوان کے وسط میں گئے، ہم نے احتجاج کیا۔

دہلی سے ہزاری باغ پہنچی سی بی آئی ٹیم نیٹ پیپرلیک معاملے کی جانچ کررہی ہے۔ سی بی آئی ٹیم گزشتہ تین دنوں سے یہاں اویسس اسکول سے لے کربینک اورکوریئرکمپنی کے دفترتک گہرائی سے جانچ کرنے میں مصروف ہے۔ حراست میں لئے گئے لوگوں کے فون اورلیپ ٹاپ بھی ضبط کئے گئے ہیں۔