Bharat Express DD Free Dish

Mohan Bhagwat

مودی نے کہا کہ سنگھ کا "سرسنگھ چالک" بننا صرف ایک تنظیمی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک مقدس اعتماد ہے، جو نسل در نسل دوراندیش قیادت نے نبھایا ہے۔ موہن بھاگوت نے نہ صرف اس ذمہ داری کو بخوبی نبھایا بلکہ اپنی ذاتی قابلیت، فکری گہرائی اور شفاف قیادت سے اسے مزید مضبوط بنایا۔

بھاگوت جی ہمیشہ سے ’ایک بھارت، شریشٹھ بھارت‘ کے نظریہ میں پختہ  یقین رکھتے ہیں اور وہ  اس بات میں بھی یقین رکھتے ہیں کہ ہندوستان کی کثیرتہذیبی تنوع اور وطن کی مختلف ثقافتوں اور روایات کی تقریبات  ہمارے ملک کا حصہ ہیں۔

آرایس ایس کے تین روزہ اجلاس میں قومی تعلیمی پالیسی، آرایس ایس کی صد سالہ تقریبات اورمختلف شعبوں میں کام کرنے والی تنظیموں کے چیلنجزپرتبادلہ خیال کیا جائے گا۔ یہ اجلاس 7 ستمبرتک جاری رہے گا۔ 32 الحاق شدہ تنظیموں کے 320 نمائندے شرکت کریں گے۔

راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا کہ 75 سال میں ریٹائرہونے کی ضرورت ہے۔ نہ میں ریٹائرہوں گا، نہ کسی کو ریٹائر ہونے کے لئے کہوں گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم جب تک چاہیں، کام کرسکتے ہیں۔

آرایس ایس اور مسلم راشٹریہ منچ کی میٹنگ میں باہمی مذاکرات، ہم آہنگی اور قومی اتحاد کے جذبے کومضبوط کرنے پرزوردیا گیا۔ میٹنگ میں آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے کئی اہم مشورے دیئے۔

حال ہی میں موہن بھاگوت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ’’بھارت‘‘ صرف ایک نام نہیں بلکہ ملک کی شناخت ہے، جسے نہ بدلا جانا چاہیے اور نہ ہی ترجمہ کیا جانا چاہیے۔

آر ایس ایس سربراہ نے تعلیم کے مقصد کے بارے میں بھی تفصیل سے بات کی۔ انہوں نے کہاکہ تعلیم کے ذریعے لوگوں کو آزادانہ طور پر زندگی گزارنے اور معاشرے میں اپنا حصہ ڈالنے کے قابل بنایا جانا چاہیے۔ تعلیم صرف اسکولنگ تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس میں گھر اور معاشرے کا ماحول بھی شامل ہے۔

آل انڈیا امام آرگنائزیشن کے چیف امام مولانا عمیر احمد الیاسی کی طرف سے ہریانہ بھون میں ایک اہم میٹنگ کا انعقاد کیا گیا، جس میں ائمہ کرام، مفتیان اور مدارس کے مہتمم موجود تھے۔ یہ میٹنگ تقریباً ساڑھے تین گھنٹے تک چلی اور اس میں مسلمانوں سے متعلق اہم قومی موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا اور بات چیت کا یہ سلسلہ برقرار رہنے پر رضامندی ظاہر کی گئی۔

ہندوستانی سیاست میں لیڈران کی زیادہ سے زیادہ عمر سے متعلق یہ تنازعہ ایک بار پھر راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) سربراہ موہن بھاگوت کے ناگپور میں کیے گئے ایک تبصرے سے شروع ہوا ہے۔ اپوزیشن اس تبصرہ سے متعلق پی ایم مودی کو نشانہ بنا رہا ہے۔

موہن بھاگوت نے پِنگلے جی کے ساتھ ایک واقعہ یاد کرتے ہوئے کہا:"ایک بار ہم نے ان سے کہا – اب بس، آرام کرو۔ تب بھی انہوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ میں نے بہت کام کیا ہے۔ اگر کوئی ان کے کام کی تعریف کرتا تو وہ ہنسی مذاق میں ٹال دیتے تھے۔"