Bharat Express DD Free Dish

Mohan Bhagwat

وشو ہندو پریشد کے بین الاقوامی سرپرست دنیش چندر نے بھی سنسکرت کو قومی زبان کا درجہ دینے کی وکالت کی۔ انہوں نے کہا کہ سنسکرت کو دنیا کی بنیادی زبان سمجھا جاتا ہے اور کئی ہندوستانی و عالمی زبانوں کی جڑیں اسی سے نکلتی ہیں۔

آر جے ڈی کے ترجمان مرتیونجے تیواری نے بنگلہ دیش میں اقلیتوں پر ہو رہے مظالم کے حوالے سے کہا کہ ہندوؤں پر ظلم ہو رہا ہے، ہندوؤں کی جانیں جا رہی ہیں اور حکومت تماشائی بنی ہوئی ہے۔ یہ حکومت پوری طرح ناکام ہو چکی ہے اور اپنے ہندوؤں کی بھی حفاظت نہیں کر پا رہی ہے۔

آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ چندر بابو نائیڈو نے کہا کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں آبادی یا تو مستحکم ہو رہی ہے یا کم ہو رہی ہے۔ چین، جاپان، جرمنی اور برطانیہ جیسے ممالک میں آبادیاتی بحران گہرا ہوتا جا رہا ہے، جہاں کام کرنے والی آبادی کم ہو رہی ہے اور بزرگوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے۔ اس کے برعکس بھارت اب بھی نوجوان آبادی والا ملک ہے، جو عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا موقع فراہم کرتا ہے۔

موہن بھاگوت نے کہا کہ مسلمانوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ عبادت کے طریقوں میں وہ الگ ہیں، لیکن ثقافت، قوم اور سماج کے اعتبار سے ہم سب ایک ہی بڑی اکائی کے حصے ہیں۔ بس یہ سمجھنے سے سب ٹھیک ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔

13 دسمبر کو موہن بھاگوت آئی ٹی ایف گراؤنڈ، شری وجے پورم میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کریں گے۔ 14 دسمبر کو وہ اس جزائر سے روانہ ہوں گے، جب کہ امت شاہ 12 دسمبر کی رات یا اگلی صبح واپس جا سکتے ہیں۔

موہن بھاگوت نے کہا کہ بھائی چارہ ہماری بنیادی روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”بھائی چارہ ہماری روایت ہے، لڑائی جھگڑا ہمارے مزاج میں نہیں ہے۔ ہم قوم پرستی نہیں بلکہ قومیت کی بات کرتے ہیں، کیونکہ متکبر قوم پرستی نے دو عالمی جنگیں کرائی تھیں“۔

وجے دشمی کے موقع پر آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ آج ملک کے نوجوانوں میں حب الوطنی اور اپنی ثقافت پر اعتماد بڑھ رہا ہے۔ آرایس ایس اور دیگر سماجی تنظیمیں نیک نیتی کے ساتھ عوامی خدمت میں مصروف ہیں۔

آرایس ایس سربراہ نے پڑوسی ممالک کی بدلتی صورتحال پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ سری لنکا، بنگلہ دیش اور نیپال میں عوامی بے اطمینانی کی بنیاد پر حکومتوں کی تبدیلیاں ہوئیں جو ہمارے لیے سبق آموز ہیں۔

اس موقع پر پی ایم  نریندر مودی نے ایک خصوصی مضمون تحریر کیا ،جس میں آر ایس ایس کے قومی کردار، سماجی خدمات اور درپیش چیلنجز کا تفصیلی ذکر کیا گیا۔انہوں نے لکھا کہ سنگھ کی اولین ترجیح ہمیشہ ملک کی ترقی رہی ہے اور آزادی کی تحریک میں ڈاکٹر ہیڈگیوار سمیت کئی سویم سیوکوں نے نمایاں کردار ادا کیا۔

ڈی ایم کے کے ترجمان ٹی کے ایس ایلنگوون نے آر ایس ایس اور اس کی تاریخ پر سوال اٹھایا اور تنظیم کو جدوجہد آزادی کے خلاف اور مہاتما گاندھی کے قتل سے جوڑا۔ ایلنگوون نے کہا، ’’آر ایس ایس آزادی کی جدوجہد کا حصہ نہیں تھا۔ وہ آزادی کے خلاف تھے اور اس نے اس کے لیے کوئی قربانی نہیں دی تھی۔ اس کے برعکس، آر ایس ایس پر مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد پابندی لگا دی گئی تھی۔‘‘