Bharat Express DD Free Dish

Modi Government

وزیر داخلہ امت شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ بی ایس ایف کے قیام کے بعد سے سرحدی محافظوں نے شدید گرمی، سخت سردی اور دشوار گزار علاقوں میں ملک کی حفاظت کا فریضہ انجام دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برف سے ڈھکے پہاڑوں سے لے کر صحرائی علاقوں تک، جہاں درجہ حرارت منفی 45 ڈگری سے لے کر 45 ڈگری سیلسیس تک پہنچ جاتا ہے، وہاں بھی جوان پوری مستعدی کے ساتھ تعینات رہتے ہیں۔

وزیر داخلہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ دراندازی اور دیگر غیر فطری وجوہات سے ہونے والی آبادیاتی تبدیلیاں کسی بھی ملک کے موجودہ اور مستقبل دونوں کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف سرحدی سلامتی تک محدود نہیں بلکہ اس کا اثر قومی خودمختاری، روزگار، سماجی ڈھانچے، قبائلی معاشروں کے تحفظ اور داخلی امن و امان پر بھی پڑتا ہے۔

لوک سبھا انتخابات 2014 میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے واضح اکثریت حاصل کی تھی۔ طویل عرصے بعد کسی ایک جماعت کو مکمل اکثریت ملنے سے ملک میں سیاسی استحکام کی نئی امید پیدا ہوئی۔ انتخابی مہم کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی نے ترقی، بہتر حکمرانی اور مضبوط قیادت کو اپنا بنیادی نعرہ بنایا تھا، جس پر عوام نے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔

اطلاعات کے مطابق امت شاہ 25 مئی کی رات تقریباً 10 بج کر 20 منٹ پر خصوصی طیارے کے ذریعے نال ایئرپورٹ پہنچیں گے۔ وہاں سے وہ سیدھے بارڈر سکیورٹی فورس کے سیکٹر ہیڈکوارٹر جائیں گے، جہاں ان کا قیام ہوگا۔ اگلے روز 26 مئی کی صبح وہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے بجو تحصیل میں واقع سانچو سرحدی چوکی روانہ ہوں گے۔

ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں میں کئی اہم اصلاحات نافذ کی گئیں، جن کے باعث طویل عرصے سے رکے ہوئے پالیسی معاملات کو نئی رفتار ملی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے معیشت کو منظم شکل دینے، ڈیجیٹل نظام کو فروغ دینے اور ملک کو 2047 تک وکست بھارت بنانے کے وژن پر مسلسل کام کیا ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ 25 مئی کی رات راجستھان کے شہر بیکانیرپہنچیں گے اور وہیں قیام کریں گے۔ ان کا یہ دورہ دو روز پر مشتمل ہوگا، جس کے دوران سکیورٹی سے متعلق کئی اہم پروگراموں میں شرکت متوقع ہے۔ اگلے روز یعنی 26 مئی کی صبح ان کا پروگرام بارڈر سکیورٹی فورس کی سانچو سرحدی چوکی کے معائنے کا ہے، جہاں وہ سرحد پر تعینات جوانوں سے ملاقات کریں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیراعظم مودی کی تعریف کیے جانے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے رام کرپال یادو نے کہا کہ وہ ٹرمپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں کیونکہ انہوں نے وزیراعظم مودی کی قیادت اور صلاحیتوں کو کھلے دل سے سراہا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ 12 برسوں میں مودی نے جس انداز میں ملک کی قیادت کی ہے، اس سے عالمی سطح پر بھارت کی ایک الگ شناخت قائم ہوئی ہے۔

یہ اجلاس صبح ساڑھے گیارہ بجے بھارت منڈپم میں شروع ہوا، جس میں تقریباً 1500 سے زائد نمائندوں نے حصہ لیا۔ پروگرام کا بنیادی مقصد زرعی ترقی، دیہی معیشت کی مضبوطی، کسانوں کی آمدنی میں اضافے اور امدادِ باہمی کے شعبے کو مزید مستحکم بنانے پر غور کرنا تھا۔

کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ وزیراعظم مودی پارلے بسکٹ اور چاکلیٹ کے اشتہارات اور تشہیری سرگرمیوں میں زیادہ مصروف دکھائی دیتے ہیں، لیکن ملک کی معیشت کو بہتر بنانے کے معاملے میں سنجیدگی نظر نہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل بڑھتی مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی دشوار بنا دی ہے۔

وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ جیسے ہی سکم اپنی ریاستی حیثیت کے 51ویں سال میں داخل ہو رہا ہے، جیوترادتیہ سندھیا نے کنچن جنگا کے حوالے سے ایک متاثر کن مضمون تحریر کیا ہے، جس میں اسے سکم کی زمین، یادوں اور اجتماعی شعور کا نگہبان بتایا گیا ہے۔