Bharat Express DD Free Dish

Mcd

واضح رہے کہ 6 ستمبر کو دہلی کے ستیہ نکیتن علاقے میں ایک عمارت گرنے سے کم از کم 7 افراد کی موت ہوگئی تھی۔ یہ عمارت لڑکوں کے پی جی کے طور پر استعمال کی جا رہی تھی۔ اس حادثے کے بعد دارالحکومت میں خستہ حال اور غیر قانونی عمارتوں کی حفاظت کو لے کر کئی سوالات کھڑے ہوئے تھے۔

مقامی باشندوں نے عمارت کے انہدام کے لیے مرمت کے کام اور بیسمنٹ میں جمع پانی کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔ بلدیاتی ادارے نے قریب کی ایک عمارت کو خالی کرا کر سیل کر دیا، جہاں لڑکیوں کا پی جی چل رہا تھا۔ حکام کے مطابق آس پاس کی کم از کم چار عمارتوں کو دہلی میونسپل کارپوریشن ایکٹ، 1957 کی دفعہ 349 کے تحت خالی کرنے کے نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔دفعہ 349 اور 491 کے تحت MCD خطرناک یا پرخطر قرار دی جانے والی عمارتوں کو خالی کرانے اور انہیں خطرناک قرار دینے کا نوٹس جاری کر سکتا ہے۔

پولیس افسران کے مطابق، ترکمان گیٹ کے قریب واقع فیضِ الٰہی مسجد کے آس پاس سکیورٹی کے سخت انتظامات کر دیے گئے ہیں، جہاں منگل کی دیر رات میونسپل کارپوریشن آف دہلی (ایم سی ڈی) نے تجاوزات ہٹانے کی مہم چلائی تھی۔

سی اے کیو ایم نے اپنی میٹنگ میں کہا کہ دہلی کی سرحدوں پر پرانی مال بردار گاڑیوں کی طویل قطاریں اور ان کا بار بار رکنا، فضائی معیار کو شدید طور پر خراب کر رہا ہے۔ کمیشن نے کہا کہ یہ فیصلہ دارالحکومت میں آلودگی اور ٹریفک جام دونوں کو کم کرنے میں مدد کرے گا۔

تمام جیتنے والے امیدواروں کو مبارکباد دیتے ہوئے ایم سی ڈی میں عام آدمی پارٹی کے لیڈر آف اپوزیشن انکش نارنگ نے کہا کہ یہ جیت پارٹی کے تمام کارپوریشن کونسلروں کی محنت اور اتحاد کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا، ’’دہلی اسمبلی کی طرح عام آدمی پارٹی ایم سی ڈی میں بھی مضبوط اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی اور ہر پلیٹ فارم پر عوام کی آواز اٹھائے گی۔‘‘

کانگریس لیڈر دیویندر یادو نے مصطفیٰ آباد میں چار منزلہ عمارت گرنے سے 11 لوگوں کی موت کے لیے براہ راست بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کو ذمہ دار ٹھہرایا۔

عدالت نے مرکزی وزارت ماحولیات کے سکریٹری کو ہدایت دی کہ وہ اس مسئلے کے فوری حل کے لیے ایم سی ڈی اور دہلی حکومت کے افسران کی میٹنگ بلائیں۔

جسٹس اوکا نے کہا کہ ایم سی ڈی سے عام سوالات پوچھے گئے، لیکن ایم سی ڈی آج جواب نہیں دے سکا۔ ایم سی ڈی کی طرف سے کوئی حلف نامہ نہیں ہے۔ مرکزی حکومت کو اس پر غور کرنا چاہیے۔

دہلی ہائی کورٹ نے شہری ترقی کے وزیر سوربھ بھردواج پر بھی سخت تبصرہ کیا اور کہا کہ انہوں نے صورتحال سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں اور مگرمچھ کے آنسو بہا رہے ہیں۔

ہائی کورٹ نے دارالحکومت میں ہو رہی غیر قانونی تعمیرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس دوران عدالت نے کہا کہ بڑے پیمانے پر ہورہے  غیر قانونی تعمیرات کو کوئی نہیں دیکھنے والا نہیں ہے ۔