Bharat Express DD Free Dish

Mahendra Singh Dhoni

دھونی اور وریندر سہواگ نے طویل عرصے تک بھارتی ٹیم کے لیے ایک ساتھ کرکٹ کھیلی اور تینوں فارمیٹس میں کئی تاریخی کامیابیوں کا حصہ رہے۔ دھونی کی قیادت میں بھارت نے 2007 کا ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ اور 2011 کا ایک روزہ عالمی کپ اپنے نام کیا، جن میں اوپنر کی حیثیت سے سہواگ نے بھی اہم کردار ادا کیا۔

چنئی سپرکنگس اورکولکاتا نائٹ رائیڈرس کے مقابلے میں بھی مہندرسنگھ دھونی کھیلنے نہیں اترے۔ وہ چوٹ کے سبب اس سیزن میں ایک بھی میچ نہیں کھیل سکے ہیں۔ وہیں، کے کے آر کے اسٹار گیند باز کی واپسی ہوگئی ہے۔

بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد دھونی صرف آئی پی ایل میں کھیلتے ہیں۔ انہوں نے اپنے آئی پی ایل کیریئر میں 278 میچ کھیلے، 38.30 کی اوسط سے 5,439 رنز بنائے اور 24 نصف سنچریاں سکور کیں۔ سی ایس کے کے لیے وہ 248 میچ کھیل چکے ہیں، اس دوران انہوں نے 4,865 رنز بنائے۔

انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) دنیا کی مقبول ترین ٹی ٹوئنٹی کرکٹ لیگز میں شمار ہوتی ہے۔ سنہ 2008 میں شروع ہونے والی اس لیگ کے اب تک 18 سیزن کھیلے جا چکے ہیں، جن میں دنیا بھر کے نامور کرکٹرز نے اپنی شاندار کارکردگی سے شائقین کو محظوظ کیا۔

شبھمن گل انگلینڈ دورے سے پہلے ہندوستانی ٹیم کے کپتان منتخب کئے گئے تھے۔ ان کی کپتانی پرہندوستانی ٹیم کے سابق کوچ گیری کرسٹن نے اپنی رائے رکھی ہے۔ ساتھ ہی اہم مشورہ بھی دیا ہے۔

 چنئی سپرکنگس نے پہلا میچ جیتنے کے بعد سے ہی اس ٹورنا منٹ میں مسلسل جدوجہد کی ہے۔ اب وہ 9 میں سے 7 مقابلے ہار چکی ہے۔ اس کے پاس صرف 4 پوائنٹ ہیں اور وہ پوائنٹس ٹیبل میں سب سے نچلے مقام پرہے۔ اس لئے چنئی کی ٹیم کو ٹورنا منٹ سے باہر مانا جا رہا ہے۔

سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اسپن کھیلنے کے خلاف جدوجہد نہ صرف جڈیجہ کو متاثر کر رہی ہے بلکہ یہ ان کی آئی پی ایل ٹیم چنئی سپر کنگز کی کارکردگی کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ CSK، جو کبھی اسپن کے خلاف سب سے مضبوط ٹیم سمجھی جاتی تھی، پچھلے دو آئی پی ایل سیزن میں اسپن کے خلاف سب سے کمزور کارکردگی دکھانے والی ٹیم رہی ہے۔

ایم ایس دھونی نے 2023 سیزن کے بعد چنئی کی کپتانی چھوڑدی تھی۔ گزشتہ سیزن میں انہوں نے ہی ریتوراج گائیکواڑکوٹیم کی کمان سونپی تھی۔ دھونی کی کپتانی میں ہی ٹیم نے 2023 میں اپنا گزشتہ خطاب جیتا تھا۔ کیا دھونی ایک بارپھرچنئی سپرکنگس کی قسمت پلٹ پائیں گے؟

پاکستانی کھلاڑیوں کے آئی پی ایل میں نہ کھیلنے کے حوالے سے راشد لطیف نے کہا کہ ظاہر ہے کہ ہمیں بھی اس کی کمی محسوس ہوتی ہے (آئی پی ایل میں کھیلنا)، اگر ہم بھی کھیلتے تو دلچسپی اور کاروبار میں اضافہ ہوتا، اگر ہمارے کھلاڑی کھیل رہے ہوتے تو کوئی نہ کوئی براڈ کاسٹر یہاں ضرور دکھاتا۔

چیپک اسٹیڈیم میں مہندر سنگھ دھونی کے والد اور والدہ کے میچ دیکھنے پہنچنے کے بعد ریٹائرمنٹ کی قیاس آرائیاں ہونے لگی ہیں۔ فلیمنگ نے اس معاملے میں کسی بھی طرح کی معلومات سے انکار کیا ہے۔