Bharat Express DD Free Dish

Mahendra Singh Dhoni

ٹیم انڈیا کے 43 سالہ کامیاب کپتان رہے مہندرسنگھ دھونی کی فٹنس ابھی شاندار ہے، فینس بھی انہیں ابھی کئی سال آئی پی ایل میں کھیلتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔ چنئی سپرکنگس میں ان کے ساتھ کھیل چکے رابن اتھپا نے بھی حیران کرنے والا دعویٰ کیا ہے۔

بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کھلاڑی اور یووراج سنگھ کے والد یوگراج سنگھ ایک بار پھر ایم ایس دھونی پر غصے میں نظر آئے اور بتایا کہ دھونی نے کس طرح ان کے بیٹے یوراج سنگھ کا کرکٹ کیریئر تباہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ بھارت کے سابق وکٹ کیپر بلے باز دھونی کو کبھی معاف نہیں کریں گے۔

محکمہ انکم ٹیکس کے اعداد و شمار کے مطابق مہندر سنگھ دھونی 38 کروڑ روپے کا ٹیکس ادا کر کے سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے بن گئے ہیں۔ ان کے بعد بالی ووڈ کے کھلاڑی اکشے کمار ہیں جنہوں نے 29.5 کروڑ روپے کا انکم ٹیکس ادا کیا ہے۔

کھیلوں کی طرح قسمت بھی زندگی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ دھونی کی اپنے کیرئیر میں کامیابی کا سہرا بھی ان کی قسمت کو قرار دیا گیا ہے لیکن بغیر محنت کے قسمت بھی آپ کا ساتھ چھوڑ دیتی ہے۔

ٹی-20 ورلڈ کپ 2024 کے سیمی فائنل میچ میں انگلینڈ کے خلاف 57 رنوں کی اننگ کھیل کرروہت شرما نے بڑا ریکارڈ قائم کردیا ہے۔ انہوں نے دھونی اور گانگولی کی برابری کر لی ہے۔

مہندر سنگھ دھونی کے آئی پی ایل سے ریٹائرمنٹ پلان کا انکشاف چنئی سپرکنگس کے ایک افسرنے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھونی نے اسے لے کرچنئی سپرکنگس منیجمنٹ سے بات کی ہے۔

آئی پی ایل کی تاریخ میں تیز ترین 6500 رنز بنانے کا ریکارڈ ڈیوڈ وارنر کے نام ہے۔ وارنر نے یہ ریکارڈ آئی پی ایل 2024 میں ہی بنایا تھا۔ انہوں نے 179ویں میچ میں ساڑھے 6 ہزار رنز مکمل کیے تھے۔ لیکن روہت شرما انڈین پریمیئر لیگ میں 6500 رنز مکمل کرنے والے سب سے تیز بلے باز بن گئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق اس میٹنگ کے لیے تمام 10 ٹیموں کے مالکان کو دعوت نامے بھیج دیے گئے ہیں۔ اگرچہ یہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ ٹیم کے مالکان کے ساتھ ان کے سی ای او اور آپریشنل ٹیمیں بھی میٹنگ میں شرکت کر سکتی ہیں۔

ہسی نے میچ کے بعد نامہ نگاروں کو بتایا، "یہ یقینی طور پر ہیڈ کوچ (اسٹیفن) فلیمنگ کی طرف سے کھیل کو آگے بڑھانے کی ہدایت ہے۔

آئی پی ایل کا پہلا سیزن 2008 میں کھیلا گیا تھا۔ شاہد آفریدی، شعیب اختر، کامران اکمل اور سلمان بٹ سمیت کئی پاکستانی کرکٹرز پہلے سیزن میں کھیلے لیکن ممبئی حملوں کے بعد پاکستانی کرکٹرز پر آئی پی ایل میں پابندی عائد کردی گئی۔ اس کے بعد سے پاکستانی کرکٹرز نے آئی پی ایل میں حصہ نہیں لیا۔