Bharat Express DD Free Dish

JDU

ماسٹرمجاہد عالم نے پارٹی چھوڑنے کے بعد کشن گنج واقع اپنے جے ڈی یو دفتر سے وزیراعلیٰ نتیش کمار کے پوسٹر اور بینرہٹا دیئے۔ دفترمیں اب صرف مجاہد عالم کے ہی پوسٹر بینرلگے ہوئے ہیں۔ وہ موجودہ وقت میں کشن گنج جے ڈی یو کے ضلع صدر تھے اور 2024 لوک سبھا الیکشن 2024 میں پارٹی کے امیدوار بھی رہے تھے۔

بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کے بیٹے نشانت کمار کے سیاست میں آنے کو لے کر گزشتہ کئی مہینوں سے گرما گرم بحث جاری ہے۔ نشانت کمار نے ابھی تک اس پر اپنے کارڈ نہیں کھولے ہیں۔

 جے ڈی یو لیڈر پرویز صدیقی نے بھی عرضی داخل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرکوئی درج فہرست ذات کا شخص اسلام قبول کرلیتا ہے، تواسے اپنی جائیداد کو وقف کرنے سے روکنا غلط ہے۔

بکسرسے بی جے پی کے سابق رکن پارلیمنٹ اورسابق مرکزی وزیراشونی چوبے کے تازہ بیان نے بہارکی سیاست میں نئی بحث چھیڑدی ہے۔

وقف ترمیمی بل منظور ہونے کے بعد جے ڈی یو میں اندرونی اختلاف ابھرکر سامنے آئے ہیں۔ حالانکہ جے ڈی یو کے مسلم لیڈران کی پریس کانفرنس کرکے بل کا بچاؤ کیا اور دعویٰ کیا کہ پارٹی کے مشوروں کو منظورکیا گیا ہے، مگرپریس کانفرنس اچانک ختم ہونے سے ہنگامہ مچ گیا۔

جے ڈی یو کے کئی لیڈران پہلے ہی پارٹی سے کنارہ کشی اختیار کرچکے ہیں۔ اب کارکنان اورعہدیداربھی پارٹی چھوڑرہے ہیں۔ اس کا نقصان نتیش کمارکوآئندہ بہاراسمبلی الیکشن میں ہوسکتا ہے۔

اب تک محمد تبریز صدیقی علی گڑھ سمیت چھ لیڈر پارٹی چھوڑ چکے ہیں۔مانا یہ بھی جارہا ہے کہ پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری غلام رسول بلیاوی بھی پارٹی چھوڑ سکتے ہیں چونکہ انہوں نے بغاوت کا سر بلند کردیا ہے۔

لوک سبھا سے پاس ہونے کے بعد راجیہ سبھا میں وقف ترمیمی بل کو پیش کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نتیش کمارنے بھی اس بل کی حمایت کی ہے۔ جے ڈی یو کے اس موقف کی مخالفت میں سینئرلیڈرقاسم انصاری نے استعفیٰ دے دیا۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے لیڈرامتیازجلیل نے لوک سبھا میں منظور وقف ترمیمی بل کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مودی کے خوف سے چندرابابو نائیڈو اورنتیش کمار نے بل کی حمایت کی۔

آرجے ڈی کے سینئرلیڈر عبدالباری صدیقی نے کہا کہ مجھے بہت حیرانی ہے کہ نتیش کمار کیسے وقف بل کی حمایت کر رہے ہیں؟ اقتدار کے لئے لوگ نتیش کمار کے ساتھ ہیں۔ جلد بھگدڑ مچے گی۔