Bharat Express DD Free Dish

JDU

وقف ترمیمی بل منظور ہونے کے بعد جے ڈی یو میں اندرونی اختلاف ابھرکر سامنے آئے ہیں۔ حالانکہ جے ڈی یو کے مسلم لیڈران کی پریس کانفرنس کرکے بل کا بچاؤ کیا اور دعویٰ کیا کہ پارٹی کے مشوروں کو منظورکیا گیا ہے، مگرپریس کانفرنس اچانک ختم ہونے سے ہنگامہ مچ گیا۔

جے ڈی یو کے کئی لیڈران پہلے ہی پارٹی سے کنارہ کشی اختیار کرچکے ہیں۔ اب کارکنان اورعہدیداربھی پارٹی چھوڑرہے ہیں۔ اس کا نقصان نتیش کمارکوآئندہ بہاراسمبلی الیکشن میں ہوسکتا ہے۔

اب تک محمد تبریز صدیقی علی گڑھ سمیت چھ لیڈر پارٹی چھوڑ چکے ہیں۔مانا یہ بھی جارہا ہے کہ پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری غلام رسول بلیاوی بھی پارٹی چھوڑ سکتے ہیں چونکہ انہوں نے بغاوت کا سر بلند کردیا ہے۔

لوک سبھا سے پاس ہونے کے بعد راجیہ سبھا میں وقف ترمیمی بل کو پیش کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نتیش کمارنے بھی اس بل کی حمایت کی ہے۔ جے ڈی یو کے اس موقف کی مخالفت میں سینئرلیڈرقاسم انصاری نے استعفیٰ دے دیا۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے لیڈرامتیازجلیل نے لوک سبھا میں منظور وقف ترمیمی بل کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مودی کے خوف سے چندرابابو نائیڈو اورنتیش کمار نے بل کی حمایت کی۔

آرجے ڈی کے سینئرلیڈر عبدالباری صدیقی نے کہا کہ مجھے بہت حیرانی ہے کہ نتیش کمار کیسے وقف بل کی حمایت کر رہے ہیں؟ اقتدار کے لئے لوگ نتیش کمار کے ساتھ ہیں۔ جلد بھگدڑ مچے گی۔

مرکزی حکومت 2 اپریل کو وقف ترمیمی بل لوک سبھا میں پیش کرنے والی ہے۔ اس سے پہلے ٹی ڈی پی نے واضح کیا کہ وہ حکومت کی حمایت کرے گی یا نہیں۔

امارتِ شرعیہ بہار، جھارکھنڈ اوراڈیشہ کے مسلمانوں کا ایک مضبوط ادارہ ہے، جسے کمزورکرنے کی کوشش کی گئی تاکہ امت کی توجہ اصل مسئلے سے ہٹائی جا سکے۔ دونوں گروپوں کی طرف سے مختلف طرح کے دعوے کئے جا رہے ہیں، لیکن موجودہ قیادت نے تختہ پلٹنے کی بات کہی ہے اور جے ڈی یو کو وہ سازش کا حصہ تسلیم کررہے ہیں۔

بی جے پی ایم ایل اے لکھیندر پاسوان نے کہا کہ آج بی جے پی حکومت مسلمانوں کے بیٹوں کو بہار کا گورنر بنانے کا کام کررہی ہے، دوسری طرف آر جے ڈی صرف مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنے کا ذریعہ بنا رکھنا چاہتی ہے۔ عید پر مسلمانوں کو ’سوغات مودی‘ کٹ دی جائے گی۔

ملک بھر میں ہولی کی تقریبات زور و شور سے منائی گئی ہیں۔ اسی دوران ایک تقریب میں بہار کے سابق وزیر اور آر جے ڈی لیڈر تیج پرتاپ یادو کے ایک ویڈیو نے بہار میں سیاسی ماحول گرم کر دیا ہے۔