Bharat Express DD Free Dish

JDU

اگر برتری برقرار رہتی ہے، تو جمعے کے نتائج بہار کے انتخابی تاریخ میں بی جے پی کی اب تک کی سب سے فیصلہ کن کارکردگی کو نشان زد کر سکتے ہیں، جو این ڈی اے کے اندر سیاسی مساوات کو نئی شکل دے گا اور ریاست میں ایک نئے سیاسی باب کے لیے راہ ہموار کرے گا۔

بہارمیں این ڈی اے زبردست جیت کی طرف گامزن ہے۔ آنے والے ایک دو گھنٹے میں حتمی نتیجے آجائیں گے، لیکن اس سے پہلے ہی جے ڈی یونے سوشل میڈیا پوسٹ کرکے بڑا داوں کھیل دیا ہے۔ جے ڈی یونے بغیرکسی کا انتظارکئے نتیش کمارکے ایک بارپھرسے ریاست کا وزیراعلیٰ ڈکلیئرکردیا ہے۔

بہاراسمبلی انتخابات کے نتائج کی تصویر تقریباً واضح ہے۔ جمعہ کے روزووٹوں کی گنتی سے سامنے آئے رجحانات سے پتہ چلتا ہے کہ جے ڈی یو اور بی جے پی اتحاد ایک بار پھر حکومت بنانے کے لئے تیار ہے۔ بہار الیکشن میں نتیش کمارکی پارٹی جے ڈی یونے بڑی واپسی کی ہے۔

انتخابات سے قبل جاری کیے گئے آئی اے این ایس-میٹرائز سروے کے مطابق، بہار میں ایک بار پھر این ڈی اے کی حکومت بننے کے امکانات مضبوط دکھائی دے رہے ہیں۔ اس سروے نے اپوزیشن انڈیا الائنس کے لیے مایوس کن تصویر پیش کی ہے۔

دھوریا کی سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ یہاں کے عوام نے کبھی کسی ایک سیاسی جماعت کو مستقل ترجیح نہیں دی۔ دھوریا اسمبلی سیٹ 1951 میں قائم ہوئی تھی۔ اب تک یہاں 17 اسمبلی انتخابات ہو چکے ہیں۔ کانگریس، سی پی آئی اور جے ڈی یو (سمتا پارٹی سمیت) نے 5-5 مرتبہ کامیابی حاصل کی، جب کہ 1969 میں ایک آزاد امیدوار نے جیت درج کی۔

امرپور کے بنہارا گاؤں کے بارے میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مغل بادشاہ شاہجہان کے زمانے میں بنگال اور بہار کے گورنر شاہ شجاع نے یہاں اپنا صدر مقام قائم کیا تھا۔ وہیں، ڈومراما گاؤں میں ملے استوپوں کے آثار اس علاقے میں قدیم بدھ مٹھوں کی موجودگی کے ثبوت ہیں۔

جگدیشپور صرف ایک اسمبلی حلقہ نہیں بلکہ 1857 کی پہلی آزادی کی جنگ کے عظیم لیڈر ویر کنور سنگھ کی سرزمین ہے۔ کنور سنگھ نے 80 سال کی عمر میں انگریزوں کے خلاف تلوار اٹھائی تھی اور اپنے قیادت میں بہار میں برطانوی حکومت کی بنیاد ہلا دی تھی۔

استھاواں کا گیلانی گاؤں اپنی منفرد شناخت کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہاں کے آم ملک اور بیرون ملک مشہور ہیں۔ اس گاؤں کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ چاہے ہندو ہوں یا مسلمان، تقریباً سب لوگ اپنے نام کے آگے ’گیلانی‘ بطور خاندانی نام استعمال کرتے ہیں۔

بہار اسمبلی میں مسلم اراکین کی تعداد کبھی بھی 10 فیصد سے زیادہ نہیں رہی، سوائے 1985 کے جب بہار غیر منقسم تھا۔ اُس وقت 324 رکنی اسمبلی میں 34 مسلم اراکین منتخب ہوئے تھے۔ 2020 کے الیکشن میں صرف 19 مسلم امیدوار کامیاب ہو سکے۔

بہاراسمبلی الیکشن 2025 کے لئے جنتا دل یونائیٹیڈ (جے ڈی یو) نے 57 امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کردی ہے۔ نتیش کمار نے اپنی پارٹی کی پہلی فہرست میں ذات پات کے فارمولے کو مدنظر رکھتے ہوئے متوازن بنانے کی کوشش کی ہے، لیکن مسلمانوں کو پوری طرح نظرانداز کردیا ہے۔