Bharat Express DD Free Dish

JDU

دھوریا کی سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ یہاں کے عوام نے کبھی کسی ایک سیاسی جماعت کو مستقل ترجیح نہیں دی۔ دھوریا اسمبلی سیٹ 1951 میں قائم ہوئی تھی۔ اب تک یہاں 17 اسمبلی انتخابات ہو چکے ہیں۔ کانگریس، سی پی آئی اور جے ڈی یو (سمتا پارٹی سمیت) نے 5-5 مرتبہ کامیابی حاصل کی، جب کہ 1969 میں ایک آزاد امیدوار نے جیت درج کی۔

امرپور کے بنہارا گاؤں کے بارے میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مغل بادشاہ شاہجہان کے زمانے میں بنگال اور بہار کے گورنر شاہ شجاع نے یہاں اپنا صدر مقام قائم کیا تھا۔ وہیں، ڈومراما گاؤں میں ملے استوپوں کے آثار اس علاقے میں قدیم بدھ مٹھوں کی موجودگی کے ثبوت ہیں۔

جگدیشپور صرف ایک اسمبلی حلقہ نہیں بلکہ 1857 کی پہلی آزادی کی جنگ کے عظیم لیڈر ویر کنور سنگھ کی سرزمین ہے۔ کنور سنگھ نے 80 سال کی عمر میں انگریزوں کے خلاف تلوار اٹھائی تھی اور اپنے قیادت میں بہار میں برطانوی حکومت کی بنیاد ہلا دی تھی۔

استھاواں کا گیلانی گاؤں اپنی منفرد شناخت کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہاں کے آم ملک اور بیرون ملک مشہور ہیں۔ اس گاؤں کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ چاہے ہندو ہوں یا مسلمان، تقریباً سب لوگ اپنے نام کے آگے ’گیلانی‘ بطور خاندانی نام استعمال کرتے ہیں۔

بہار اسمبلی میں مسلم اراکین کی تعداد کبھی بھی 10 فیصد سے زیادہ نہیں رہی، سوائے 1985 کے جب بہار غیر منقسم تھا۔ اُس وقت 324 رکنی اسمبلی میں 34 مسلم اراکین منتخب ہوئے تھے۔ 2020 کے الیکشن میں صرف 19 مسلم امیدوار کامیاب ہو سکے۔

بہاراسمبلی الیکشن 2025 کے لئے جنتا دل یونائیٹیڈ (جے ڈی یو) نے 57 امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کردی ہے۔ نتیش کمار نے اپنی پارٹی کی پہلی فہرست میں ذات پات کے فارمولے کو مدنظر رکھتے ہوئے متوازن بنانے کی کوشش کی ہے، لیکن مسلمانوں کو پوری طرح نظرانداز کردیا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے آئندہ بہار کے دورے پر تیجسوی یادو نے کہا کہ انتخابات ہیں اس لیے آرہے ہیں، انتخابات تک جملا کریں گے اور انتخابات کے بعد بھول جائیں گے۔ یہی کام ان لوگوں کا ہے۔

اپوزیشن لیڈر نے الیکشن کمیشن سے ایس آئی آر میں ہونے والی بے ضابطگیوں اور غلطیوں کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کمیشن سے دونوں جگہوں سے دنیش سنگھ کے خلاف الگ الگ نوٹس جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے بعد مظفر پور کے الیکٹورل رجسٹریشن افسر نے جے ڈی یو کے قانون ساز کونسلر دنیش پرساد سنگھ اور ایل جے پی (رام ولاس) کی رکن اسمبلی وینا دیوی کو نوٹس بھی بھیجا ہے۔ نوٹس میں 16 اگست تک جواب دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

جے ڈی یو کے ایم ایل اے ونے چودھری نے آر جے ڈی ایم ایل اے کی طرف سے لاء اینڈ آرڈر کو لے کر ’کالا کپڑا‘ پہن کر احتجاج کرنے پر طنز کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کو اب اپنے منہ پر بھی کالکھ پوت لینی چاہئے، کیونکہ انہیں ریاست کے امن و امان پر سوالیہ نشان لگانے کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے

پوسٹر کے چاروں طرف، بہار میں حال ہی میں ہوئے آٹھ قتل معاملوں کا تاریخ کے ساتھ ذکر کیا گیا تھا، جس میں مقتول کی تصویریں بھی لگائی گئیں۔ پوسٹر میں سب سے پہلے مشہور صنعت کار گوپال کھیمکا کی تصویر کے ساتھ ان کے قتل کی تاریخ لکھی ہوئی تھی۔