Bharat Express DD Free Dish

Jammu and Kashmir

عرضی میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ دو ماہ کی مدت کے اندر مرکزی حکومت کو جموں و کشمیر کی مکمل ریاست کا درجہ بحال کرنے کی ہدایت کرے۔

ایگزٹ پول میں بی جے پی، کانگریس اورنیشنل کانفرنس کے الائنس کے مقابلے پیچھے ہوتی ہوئی نظرآرہی ہے۔ اس کے بعد بھی پارٹی حکومت بنانے کی قواعد میں مصروف ہوگئی ہے۔ 

برج بھوشن سنگھ سے پوچھا گیا کہ ان کے خیال میں ہریانہ اور جموں و کشمیر میں کس کی حکومت بنے گی؟ اس پر انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ بی جے پی حکومت بنائے گی، وہیں ہریانہ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہاں پر بولنا منا ہے ۔

جموں و کشمیر میں، جس کی 90 اسمبلی سیٹیں ہیں، بی جے پی، کانگریس، این ای سی اے اور پی ڈی پی سمیت کئی علاقائی پارٹیاں بھی کوششیں کر رہی ہیں۔ ان تمام جماعتوں کے امیدواروں کی جیت یا ہار کا فیصلہ 8 اکتوبر کو ہی ہو گا۔ یہاں تین مرحلوں میں انتخابات ہوئے۔

رشید 2019 سے جیل میں ہیں جب انہیں این آئی اے نے 2017 میں دہشت گردوں کی مالی معاونت کے معاملے میں غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کے تحت گرفتار کیا تھا۔

سیکیورٹی فورسز نے دو دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔ فی الحال سیکورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور سرچ آپریشن جاری ہے۔

جموں و کشمیر میں آخری بار سال 2014 میں اسمبلی انتخابات ہوئے تھے۔ اس الیکشن میں بی جے پی نے جموں خطے میں 25 سیٹیں جیتی تھیں۔ جموں و کشمیر میں بی جے پی نے پی ڈی پی کے ساتھ مل کر حکومت بنائی تھی۔ اس کے بعد بی جے پی کو ڈپٹی سی ایم کا عہدہ ملا۔

بارہمولہ سے آزاد رکن پارلیمنٹ انجینئر رشید کی عبوری ضمانت کی مدت میں توسیع کر دی گئی ہے۔ اب اسے 12 اکتوبر تک بڑھا دیا گیا ہے۔

مہاجرین نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ برسوں سے اس لمحے کا انتظار کر رہے تھے۔ جب انہیں جمہوری عمل میں حصہ لینے کا موقع ملا تو ان کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔ پناہ گزینوں کے لیڈر رام گاندھی نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ اس ملک میں رہ کر اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کی ہے، اور آج پہلی بار ہمیں ووٹ دینے کا موقع ملا ہے۔

اس مرحلے میں سب سے اب تک سب سے زیادہ  ادھمپور میں ووٹنگ ہوئی ہے جہاں 64.43فیصد ووٹنگ ہوئی ہے۔ وہیں سب سے کم بارہمولہ میں ہوئی ہے جہاں تین بجے تک 46.09فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی ہے۔دیگر اضلاع میں بھی ووٹنگ کچھ حدتک بہتر دکھائی دے رہی ہے۔