Bharat Express DD Free Dish

Maner Encounter: منیر انکاؤنٹر پر تیجسوی اور روہنی کا حکومت پر حملہ، کہا- ’’انکاؤنٹر کلچر بند ہونا چاہیے‘‘

جمعہ کے روز منیر میں پولیس کے ساتھ مبینہ تصادم میں تین افراد کی موت ہوگئی تھی۔ اس واقعے کے بعد مقامی لوگوں نے پولیس کی کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے فرضی انکاؤنٹر قرار دیا ہے۔

آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو۔

پٹنہ: بہار کے پٹنہ ضلع کے منیر میں پولیس کے ساتھ مبینہ تصادم میں تین افراد کی موت کے بعد ریاست کی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔ اس واقعے کو لے کر راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے قومی کارگزار صدر تیجسوی یادو اور روہنی آچاریہ نے بہار حکومت اور پولیس پر سخت تنقید کی ہے۔

پولیس کارروائی پر مقامی لوگوں نے اٹھائے سوال

دونوں لیڈران نے پولیس کے طریقۂ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ دوسری جانب مقامی لوگ اس تصادم کو فرضی قرار دے رہے ہیں۔ آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرکے پولیس اور حکومت پر سنگین الزامات عائد کیے۔

تیجسوی یادو نے حکومت اور پولیس کو بنایا نشانہ

تیجسوی یادو نے اپنی پوسٹ میں لکھا، ’’اپنی جان کی ذمہ داری عوام خود اٹھائیں گے… وزیر اعلیٰ ہر جگہ یہ بورڈ لگوا دیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ بہار پولیس عام لوگوں کے گھروں میں گھس کر انہیں گولی مار رہی ہے، جبکہ بہار پولیس کو مجرم گولی مار رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ قتل کے ملزم اور مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے شخص کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد بہار میں خوفناک حالات پیدا ہوگئے ہیں۔ تیجسوی نے الزام لگایا کہ جب مجرم، پولیس اور وزیر اعلیٰ بے قابو جرائم کے معاملے پر گھرتے ہیں تو توجہ ہٹانے کے لیے کسی مخصوص ذات کے لوگوں کا انکاؤنٹر کیا جاتا ہے۔

روہنی کا بھی انکاؤنٹر کلچر بند کرنے کا مطالبہ

آر جے ڈی صدر لالو پرساد یادو کی بیٹی اور سابقہ لوک سبھا انتخابات میں سارن حلقے سے امیدوار رہ چکی روہنی آچاریہ نے بھی اس واقعے پر حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے ایکس پر لکھا، ’’انکاؤنٹر کلچر بند ہونا چاہیے۔‘‘ روہنی نے منیر میں ہوئے پولیس تصادم کو بہار میں قانون کی حکمرانی کے دعوے پر سیاہ دھبہ قرار دیا۔ انہوں نے اسے سمراٹ حکومت کی جانب سے جاری پولیس کی زیادتی کا ایک اور واقعہ بتایا۔

روہنی نے کہا کہ مجرموں کو سزا دینے کا کام عدالت کا ہے، لیکن انکاؤنٹر کروا کر حکومت آئین اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ انہوں نے پورے معاملے کی عدالتی تحقیقاتی کمیشن کے ذریعے غیر جانب دارانہ جانچ اور قصورواروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ روہنی نے اپنی پوسٹ کے ساتھ ایک کارٹون بھی شیئر کیا ہے۔

جمعہ کو تصادم میں تین افراد کی ہوئی تھی موت

قابل ذکر ہے کہ جمعہ کے روز منیر میں پولیس کے ساتھ مبینہ تصادم میں تین افراد کی موت ہوگئی تھی۔ اس واقعے کے بعد مقامی لوگوں نے پولیس کی کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے فرضی انکاؤنٹر قرار دیا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read