Bharat Express DD Free Dish

Israel-US-Iran War

سعودی عرب نے آبنائے ہرمزمیں پروجیکٹ فریڈم کو روکنے کے لئے امریکہ پردباؤڈالا۔ سعودی عرب نے اعلان کیا کہ "آپ ایران سے لڑنے کے لئے ہمارے اڈے استعمال نہیں کر سکتے اورنہ ہی ہم اپنی فضائی حدود کو ٹیک آف کے لئے استعمال کرنے دیں گے۔"

آبنائے ہرمز میں امریکہ اورایران کے درمیان ہوئی گولی باری سے جنگ کا خطرہ بڑھا۔ تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور شیئربازار میں گراوٹ آرہی ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ جانتے ہیں کہ کیا عالمی توانائی کا بحران مزید گہرا ہو گا؟

ایران نے آبنائے ہرمزکوکھولنے اورامریکہ کواس کی ناکہ بندی ختم کرنے کی اجازت دینے کی تجویزپیش کی، جبکہ جوہری مذاکرات بعد میں ہوسکتے ہیں۔ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تجویز کو مسترد کردیا۔ امریکہ پہلے جوہری ہتھیاروں پرپابندی چاہتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے اور کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔

امریکہ، اسرائیل اور ایران تنازعہ کی وجہ سے آبنائے ہرمزجوکہ عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے ایک اہم آبی گزر گاہ ہے، گزشتہ دو ماہ سے بند ہے، جس سے عالمی سطح پرتیل اور گیس کی سپلائی پربہت زیادہ اثر پڑ رہا ہے۔

امریکہ اورایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لئے ایک بار پھر راست بات چیت ہوسکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ کے افسر 21 اپریل کو جنگ بندی ختم ہونے سے پہلے ایرانی افسران کے ساتھ ممکنہ طور پر دوسری میٹنگ کے ذریعہ تبادلہ خیال کرسکتے ہیں۔

امریکی صدرڈونلڈ ترمپ کا رخ کافی سخت نظرآرہا ہے۔ وہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ڈیل چاہے ہو یا نہ ہو، اس سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم پہلے ہی جیت چکے ہیں۔ واضح رہے کہ امریکہ اورایران کے درمیان پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والے اہم مذاکرات کسی نتیجے پرنہیں پہنچ سکی۔

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کوخبردارکیا ہے کہ وہ 48 گھنٹوں کے اندر معاہدے پرپہنچ جائے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدہ نہ ہوا توحالات مزید خراب ہوں گے۔ ٹرمپ نے پہلے ہی ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 10 دن کا وقت دیا ہے۔

وزیراعظم مودی نے خلیجی ممالک میں رہنے والے ہندوستانیوں کی حفاظت کے بارے میں بھی بات کی۔ پی ایم مودی نے کہا، "ایک کروڑ ہندوستانی خلیج میں رہتے ہیں۔" انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ انہوں نے کہا، "حکومت خلیجی ممالک میں رہنے والے ہر ہندوستانی کو مکمل تعاون فراہم کر رہی ہے۔"

ہندوستان کی آزادی کے بعد ہندوستان اورایران کے درمیان رشتے دھیرے دھیرے مضبوط ہوتے گئے۔ دونوں ممالک نے باضابطہ سفارتی تعلقات قائم کئے اوروقت کے ساتھ ساتھ تعاون میں اضافہ کیا۔ 1950 اور1970 کی دہائیوں میں ایران کا امریکہ کی طرف جھکاؤمضبوط تھا۔ اس کے باوجود ایران نے ہندوستان کے ساتھ اپنے تعلقات برقراررکھے۔

ایران کے مسلسل حملوں نے آبنائے ہرمزکو بند کردیا ہے، جس سے تیل کی عالمی تجارت کوخطرہ لاحق ہے۔ حال ہی میں عراق کی بندرگاہ بصرہ کے قریب دوامریکی آئل ٹینکروں پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں عملے کا ایک رکن ہلاک ہوگیا۔