Bharat Express DD Free Dish

Israel-US-Iran War

ایران کے کئی شہروں میں 4 سے 9 جولائی تک آخری رسوم کی تقریب ہونی والی ہے، جس میں لاکھوں لوگوں اورکئی وی آئی پی غیرملکی مہمانوں کے آنے کی بھی امید ہے۔ ایران نے وزیراعظم نریندرمودی کوآیت اللہ علی خامنہ ای کے سرکاری آخری رسومات میں شرکت کی دعوت دی تھی۔

بھارت نے پہلگام حملے کے بعد سندھ طاس معاہدہ معطل کردیا تھا۔ تقریباً 14 ماہ بعد پاکستان نے اب دھمکیوں کا سہارا لیا ہے۔ پیپلزپارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اسلام آباد اسے برداشت نہیں کرے گا۔ پاکستان کے تمام حربے ناکام ہوگئے تواب وہ اپنے پرانے اوربوسیدہ ہتھکنڈوں کی طرف لوٹ آیا ہے۔ اس نے بھارت کودھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگراس نے پاکستان کا پانی روکنے کی کوشش کی تو اسلام آباد جوابی کارروائی کے لیے تیارہے۔

لبنان کی سرکاری میڈیا نے جانکاری دی ہے کہ منگل کے روز جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں میں کم ازکم چارلوگوں کی موت ہوئی۔ حملہ اس وقت ہوا، جب امریکہ اورایران کے درمیان معاہدہ پراتفاق رائے ہوا اوراعلان کیا گیا تھا۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کو جیل جانے سے بچانے کے لئے ڈونلڈ ٹرمپ نے جہاں بین الاقوامی عدالت کے خلاف محاذ کھولا۔ وہیں داخلی طورپربھی انہوں نے نیتن یاہو سے متعلق کیس کو کمزور کرنے میں اہم رول نبھایا۔ اب ٹرمپ خود نیتن یاہو کے خلاف غیر پارلیمانی الفاظ کا استعمال کررہے ہیں۔

کواڈ کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان جاری کرکے کہا کہ انڈو پیسفک پوری دنیا کے لئے اہم ہے۔ اس میٹنگ میں عالمی چیلنجزپرتبادلہ خیال ہوا، جس میں آبنائے ہرمز کا موضوع اہم ہے۔

پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حتمی مسودے کا اعلان چند گھنٹوں میں متوقع ہے۔ فریقین نے کئی معاملات پر اتفاق کیا ہے۔ اب اس کا باضابطہ اعلان ہونے سے پوری دنیا کو بڑی راحت مل سکتی ہے۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا کہنا تھا کہ حج میں اگرایران پرحملہ ہوتا ہے تو لاکھوں عازمین پھنس جائیں گے۔ عرب کے مسلمان بھی اس سے ناراض ہوں گے۔ اس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہیں امریکہ حج ختم ہونے سے پہلے کسی معاہدے پرپہنچنا چاہتا ہے۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات امریکہ کے اتحادی سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم اب ان دونوں ممالک نے ایران جنگ میں الجھے ہوئے امریکہ کو دھمکیاں دینا شروع کردی ہیں۔ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے امریکی خزانے سے 15 ارب ڈالرنکال لئے ہیں، جس کے امریکی معیشت پرتباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی دونوں نے کھل کرایران پر مزید حملوں کی مخالفت کی ہے۔

وہیں، امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو پھر بڑی دھمکی دی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگرایران نے جلد ہی نیوکلیئرمعاہدہ پربہترتجویزنہیں دی تو امریکہ پہلے سے کہیں زیادہ بڑا حملہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ گھڑی چل رہی ہے اورایران کے پاس زیادہ وقت نہیں بچا ہے۔ انہوں نے امریکی میڈیا ایکسیو سے بات چیت میں کہا کہ امریکہ ابھی بھی جنگ ختم کرنے کے لئے معاہدہ چاہتا ہے۔

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ جب بدھ کے روز چین کے لئے نکلے، تب انہوں نے ایران سے متعلق بیجنگ میں کوئی بات نہیں کرنے کا اعلان کیا، لیکن جیسے ہی بیجنگ پہنچے، انہوں نے شی جنپنگ سے مڈل ایسٹ میں امن سے متعلق تبادلہ خیال کیا۔ امریکہ کو پتہ ہے کہ شی جنپنگ کے بغیرایران جنگ ختم نہیں ہوسکتا ہے۔