Bharat Express DD Free Dish

Israel-Palestine War

لبنانی مسلح گروپ حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل کے شمالی سرحدی گاؤں پر میزائل فائر کرنے کی ذمہ داری قبول کرنے کے بعد اسرائیل نے لبنان کے ساتھ شمالی سرحد سے 4 کلومیٹر تک کے علاقے کو سیل کر دیا ہے۔

برطانیہ نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ حماس کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی میں تحمل کا مظاہرہ کرے تاکہ شہریوں کو کم سے کم نقصان پہنچایا جا سکے۔

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ ان کی ریاض میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ 'بہت نتیجہ خیز' ملاقات ہوئی، جس میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

غزہ پٹی پر اسرائیلی جنگ میں اب تک 2000 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔ 6,000 سے زیادہ دیگر زخمی ہوئے ہیں، اور عمارتیں تباہ کردی گئی ہیں۔

اسرائیل کی فوج کا کہنا ہے کہ وہ غزہ کے خلاف ہوائی، زمینی اور سمندری راستے سے بڑے اور وسیع پیمانے پر حملے کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

امریکہ نے اسرائیل کے لیے "آئرن کلیڈ" مشرقی بحر روم میں دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز تعینات کیا ہے۔ اسرائیلی افواج نے رات میں غزہ پٹی پر جیٹ فائٹرز کے میزائلوں اور زمین اور سمندر سے توپ خانے کے گولے برسائے۔

جب بھی مورخین لینن گراڈ کے محاصرے کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ تو وہ اسے نازیوں کی طرف سے کی گئی 'نسل کشی' قرار دیتے ہیں۔

سعودی وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اراکین پر زوردینے کے لئے بارہا یہ سفارتی مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی امن و سلامتی کو برقراررکھنے اوراسرائیل کی جانب سے غزہ میں فوجی کارروائیوں کو روکنے کے لئے اپنی ذمہ داری پوری کریں۔

 برٹش نیوز نیٹ ورک نے کہا کہ یہ پریشان کرنے والا حادثہ ہے۔ کہا گیا کہ حادثہ جمعرات کی رات اس وقت ہوا، جب تین صحافیوں کی ٹیم ایک کار سے اپنے ہوٹل کی طرف جارہی تھی۔ دعویٰ کیا گیا کہ کار پرپریس لکھا تھا، اس کے باوجود کار کو روکا گیا۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ شمالی غزہ کے اسپتالوں سے سینکڑوں شدید زخمی مریضوں کا انخلا خطرے سے خالی نہیں ہے۔ اس میں ان کی جان بھی جا سکتی ہے۔