Bharat Express DD Free Dish

Israel-Palestine War

ڈبلیو ایف پی کے مشرق وسطیٰ کے ترجمان نے بتایا کہ دکانوں میں موجود اسٹاک چند روز کی ضروریات سے بھی کمی کے قریب پہنچ رہے ہیں، شاید چار یا پانچ دن کا کھانے کا ذخیرہ باقی رہ گیا ہے۔دوسری جانب عالمی ادارہ صحت نے زور دیا کہ اسے امداد اور طبی سامان کی فراہمی کے لیے غزہ تک فوری رسائی کی ضرورت ہے۔

فلسطین اسرائیل جنگ میں اب تک قریب16 صحافیوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے اور ہر دن کسی نہ کسی کونے میں کم سے کم ایک صحافی ضرور موت کا شکار ہورہا ہے۔کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ یعنی CPJ جنگ میں مارے گئے، زخمی ہونے، حراست میں لیے گئے یا لاپتہ ہونے والے صحافیوں کی تمام رپورٹس کی چھان بین کر رہی ہے۔

Israel-Hamas Conflict: حماس نے ٹیلی گرام چینل پرویڈیو کے ایک کیپشن ڈالتے ہوئے جانکاری دی کہ القاسم بریگیڈ کے مجاہدین غزہ میں ایک خاتون قیدی کو میڈیکل سہولیات دے رہے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے کہا کہ اسرائیل کا فرض ہے کہ وہ اپنے عوام کو حماس اور دیگر گروپ سے محفوظ رکھے اور مستقبل میں ہونے والے حملوں کو روکے۔

امریکی وزیرخارجہ اینٹنی بلنکن اس مشن پر نکلے ہوئے ہیں کہ عرب ممالک اسرائیل پر ہوئے حملوں کے بعد حماس کی تنقید کریں۔ ساتھ ہی اپنے یہاں ہو رہے گھریلو احتجاجی مظاہرہ کو بھی عرب ممالک روکیں۔

اسرائیل کے ذریعہ فلسطین کے خلاف ہو رہی کارروائی سے متعلق فلسطین کے تئیں اتحاد دکھانے پہنچے سی پی آئی-ایم ایل کے جنرل سکریٹری دیپانکربھٹا چاریہ نے کہا کہ ہم امن چاہتے ہیں۔

یوپی پولیس میں تعینات ایک کانسٹبل سہیل انصاری کو فلسطین کی حمایت کے لئے اٹھائے گئے قدم کے پیش نظر یوپی پولیس نے قصوروار مانتے ہوئے معطل کردیا ہے۔

Israel-Palestine Conflict: اسرائیلی فوج نے غزہ کی سرحد پر ٹینک تعینات کر رکھا ہے۔ غزہ پرمسلسل حملے کئے جا رہے ہیں، جس میں دو ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

این سی پی صدر نے کہاکہ ، "ملک کے سابق وزرائے اعظم جواہر لال نہرو، اندرا گاندھی، راجیو گاندھی اور اٹل بہاری واجپائی کا کردار فلسطین کی مدد کرنا تھا۔ بھارت نے کبھی کسی کی مدد نہیں کی لیکن موجودہ وزیراعظم نے بدقسمتی سے اسرائیل کا ساتھ دے کر فلسطین کے اصل مالکان کی مخالفت کی ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ ہمیں اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ فلسطین کی آبادی کی ایک بڑی تعداد کا حماس کے حملوں سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ وہ اس کے نتائج بھگت رہے ہیں۔ بائیڈن نے کہا کہ ان امریکی خاندان کے افراد کا سراغ لگانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں جن کے بارے میں ابھی تک کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔