Bharat Express DD Free Dish

Israel-Palestine War

ارندم باغچی نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا ہے کہ بھارت کی طرف سے بھیجے گئے امدادی سامان میں زندگی بچانے والی ضروری ادویات، سرجیکل اشیاء، خیمے، سلیپنگ بیگ، ترپال، صفائی کی سہولیات، پانی صاف کرنے کی گولیاں اور دیگر ضروری اشیاء شامل ہی

اقوام متحدہ کے امدادی سربراہ مارٹن گریفتھس کا کہنا ہے کہ تنظیم "اصرار کرتی ہے" کہ مزید امدادی ٹرکوں کو غزہ میں جانے کی اجازت دی جائے۔

جمعرات کے روز رملّہ میں ایک پریس کانفرنس میں فلسطینی اتھارٹی کے زیر حراست امور کے کمیشن کے سربراہ قدورہ فاریز نے کہا کہ قیدیوں کے حوالے سے حالیہ پیش رفت "بے مثال" اور "خطرناک" ہیں۔

رامافوسا نے کہا، "جنوبی افریقیوں کے طور پر، ہم فلسطینیوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس سے متعلق ہو سکتے ہیں۔ ہمارے لوگوں نے اپنی آزادی کے حصول کے لیے ایک بہادرانہ اور دلیرانہ جدوجہد کی اور فلسطینیوں کی طرح ناقابل بیان مصائب کا شکار ہوئے۔

نیوز ایجنسی اے این آئی سے بات کرتے ہوئے اویسی نے کہا تھا، ’’21 لاکھ کی آبادی والے ملک کے 10 لاکھ غریب لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ دنیا خاموش ہے۔ آپ کو اسرائیلی قبضہ نظر نہیں آتا، آپ کو مظالم نظر نہیں آتے۔

شاہ عبداللہ نے کہا کہ آج اسرائیل غزہ میں عام شہریوں کو بھوکا مار رہا ہے لیکن کئی دہائیوں سے فلسطینی امید، آزادی اور مستقبل کے بھوکے ہیں۔ انہوں نے کہا، "جب بم گرنا بند ہو جاتے ہیں، اسرائیل کو کبھی جوابدہ نہیں ٹھہرایا جاتا، قبضے کی ناانصافی جاری رہتی ہے اور دنیا تشدد کے اگلے دور تک چلی جاتی ہے۔

مصر کے صدر السیسی نے کہا کہ رفح بارڈر کو ’مسلسل‘ چلانے کے لیے امریکہ کے ساتھ معاہدہ طے پایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن کے ساتھ اقوام متحدہ اور فلسطینی ہلال احمر کی نگرانی میں رفح کراسنگ کے ذریعہ امدادی سامان غزہ میں پہنچا یا جائے گا۔

عالمی ادارہ صحت تنظیم (ڈبلیوایچ او) نے ایکس (ٹوئٹر) پر جانکاری دی کہ اس کے چار ٹرک غزہ میں امدادی سامان کی سپلائی کریں گے۔ غزہ پٹی کی کل آبادی 23 لاکھ ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے چار ٹرکوں میں شامل سامان میں 1,200  لوگوں کے لئے ٹراما سپلائی ہے۔

US President Joe Biden on Israel-Palestine War: امریکی صدر جو بائیڈن نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس کے حملے کا مقصد اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان بحال ہو رہے تعلقات کو نقصان پہنچایا ہے۔

اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جنگ جاری ہے۔ اس جنگ میں تقریباً 5 ہزار افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ حماس کے حملے کے بعد اسرائیل کی جوابی کارروائی میں بے گناہ اور معصوم لوگ جاں بحق ہورہے ہیں۔