Bharat Express DD Free Dish

Israel Palestine Conflict

حماس کے 7 اکتوبر کو اسرائیل کے اندر حملے کے بعد سے غزہ پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 3,785 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جس میں جمعرات تک 1,400 سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں۔

وزیراعظم نریندرمودی نے اس ٹیلی فونک گفتگو کے بارے میں جانکاری دیتے ہوئے لکھاکہ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے بات کی ہے۔ غزہ کے الاہلی ہسپتال میں شہریوں کی جانوں کے ضیاع پر تعزیت کا اظہار کیا۔ ہم فلسطینی عوام کے لیے انسانی امداد بھیجتے رہیں گے۔ خطے میں دہشت گردی، تشدد اور سیکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا۔

ایک اندازے کے مطابق یہودی وائس فار پیس کے 300 مظاہرین کو بدھ کے روز امریکی کیپیٹل کمپلیکس کے ایک بلاک پر قبضہ کرنے کے بعد گرفتار کیا گیا۔

محمد صلاح کا کہنا تھا کہ تمام زندگیاں مقدس ہیں اور ان کا تحفظ ہونا چاہیے۔ قتل و غارت گری بند ہونی چاہیے۔ کئی خاندان ٹوٹ کر بکھر رہے ہیں۔

اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری جنگ کے مد نظربرطانوی وزیر اعظم رشی سنک جمعرات 19 اکتوبر کو اسرائیل پہنچ گئے ہیں۔ برطانیہ کے وزیر اعظم رشی سنک نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے ملاقات کی ہے اوران سے مستقبل کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں بین الاقوامی انسانی قانون کا اطلاق ہونا چاہئے۔ ہماری فوری توجہ غزہ میں جنگ بندی پرہے اور مملکت غزہ میں جنگ بندی کے حصول کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

’ضرورت اس بات کی ہے کہ زخمیوں کے انخلا کا مطالبہ کیا جائے۔ انسانی امداد، دوائیں اور طبی سازوسامان کی متاثرین تک رسائی کی اجازت کے لیے انسانی راہداریاں کھولنے پر زور دیا جائے تاکہ بڑے انسانی المیے کے وقوع پذیر ہونے کو روکا جاسکے۔ استحکام کی بحالی اور حالات کو کنٹرول کرنے والی کوششوں پر زور دیا جائے۔

گذشتہ ہفتے اسرائیل پر حماس کے حملوں کے بعد لبنان کے اندر موجود فلسطینی گروہوں کی طرف سے راکٹ اور میزائل حملوں کے بعد سرحد پار سے گولہ باری کا تبادلہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں حزب اللہ کے اہداف کے خلاف اسرائیل نے جوابی کارروائی کی تھی۔

جماعت اسلامی ہند، اسرائیل کے اس وحشیانہ عمل کو قتل عام اورانسانیت کے خلاف جرم سمجھتی ہے۔ اسرائیلی قابض فوج تمام جنگی قوانین اوربنیادی انسانی اقدارکی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے اسکولوں اوراسپتالوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔

ملّی جماعتوں کے سربراہان اور قائدین نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ فلسطین خصوصاً غزہ کی صورت حال پر ہم سخت تشویش کا اظہارکرتے ہیں۔ معصوم انسانی جانوں حتی کہ بچوں اورخواتین کی مسلسل ہلاکت، غذا، پانی، ادویات اوربجلی کی سپلائی کا انقطاع اورشہری علاقوں پرمسلسل بمباری اورغزہ کے انخلا کی کوششوں کی ہم پر زور مذمت کرتے ہیں۔