Bharat Express DD Free Dish

Israel Palestine Conflict

اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جنگ جاری ہے۔ اس جنگ میں تقریباً 5 ہزار افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ حماس کے حملے کے بعد اسرائیل کی جوابی کارروائی میں بے گناہ اور معصوم لوگ جاں بحق ہورہے ہیں۔

غزہ میں جاری مظالم انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں اور گزشتہ چند صدیوں میں پروان چڑھنے والے اقدار کی توہین بھی۔  اس تنازع نے مغرب کی منافقت ، ان کے دوہرے رویے اور اخلاقی دیوالیہ پن کو بے نقاب کردیا ہے جو فلسطین پر ہو رہے مظالم کو خاموش تماشائی بنے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔

غزہ شہر کے الشفاء اسپتال کے باہر پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ نے کہا کہ غزہ پٹی میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ہمارے فلسطینی عوام، مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف ایک بڑا قتل عام ہے… اسرائیل بلاشبہ مزید قتل عام کرنے جا رہا ہے اور عالمی دنیا اس کی گواہی دے رہی ہے۔

آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت شمالی غزہ کے فلسطینیوں کو اپنے گھر بار چھوڑنے اور پورے علاقے کو خالی کرنے کے لیے اسرائیل کی اشتعال انگیز کال کو بھی نامنظور کرتی ہے۔ یہ فلسطینیوں کو زبردستی بے گھر کرنے اور پناہ گزینوں کا ایک اور بحران پیدا کرنے کی ایک مایوس کن اسرائیلی کوشش ہے جس کو عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو روکنا چاہیے۔

گٹیرس نے کہا ہے کہ وہ غزہ کو امداد کی ترسیل پر عائد ‘پابندیوں’ سے نمٹ رہے ہیں۔ گٹیرس نے کہا، "ہم ان پابندیوں کو ختم کرنے کے لیے تمام فریقوں کے ساتھ فعال طور پر مشغول ہیں۔

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ایجنسی UNRWA کا کہنا ہے کہ غزہ میں مزید دو ساتھی مارے گئے ہیں، جس سے جنگ شروع ہونے کے بعد مجموعی تعداد 16 ہو گئی ہے۔

اسرائیل حکومت نے الجزیرہ نیٹ ورک کے آلات ضبط کرنے سمیت اسرائیل میں الجزیرہ کے دفتر کو بند کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

حماس تحریک کے بیرون ملک سربراہ خالد مشعل نے جمعرات کوکہا کہ اسرائیل پرحملہ ایک حسابی مہم جوئی ہے۔ حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈزنے 7 اکتوبرکواسرائیل پراچانک حملہ کیا تھا اورہم اس کے نتائج اچھی طرح جانتے ہیں۔ انہوں نے العربیہ چینل کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویومیں اس بات کی تصدیق کی کہ قیدیوں …

آج کا دن بھی غزہ میں موت کے ننگا ناچ کا دن رہا ۔آج کی صبح بھی خون خرابے سے ہوئی اور شام بھی دھماکے سے۔ ایک ہفتے سے زیادہ ہوگئے ۔غزہ اور فلسطین میں یہی موسم ہے اور یہی روزمرہ کی روداد۔ مرنے والوں کی فہرست روزانہ دراز ہوتی چلی جارہی ہے اور کفن کیلئے کپڑے کم پڑنے لگے ہیں ۔

ماس کی جانب سے 7 اکتوبر کو اسرائیل کے اندر حملے کے بعد سے اب تک غزہ پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 3,785 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ جمعرات کے روز تک اسرائیل میں 1,400 سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں۔