Bharat Express DD Free Dish

Israel Hamas War

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے اسماعیل ہنیہ کے قتل کا بدلہ لینا ایران کا فرض قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایران نے تہران سے 120 کلومیٹر دور مرکزی مسجد جمکاران پر سرخ جھنڈا لگا دیا ہے۔

آئی آر جی سی کے شعبہ تعلقات عامہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بدھ کی صبح ہونے والے حملے کی وجہ کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔ کیس کی تفتیش کی جا رہی ہے۔ ہنیہ کے ساتھ اس کا باڈی گارڈ بھی مارا گیا ہے۔ ان کی رہائش گاہ پر راکٹ فائر کیا گیا۔

آئی آر جی سی نے اس پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ حماس نے ہنیہ کی موت کا ذمہ دار اسرائیل کو ٹھہرایا ہے۔ یہ واقعہ ایران کے نئے صدر کی تقریب حلف برداری میں ہنیہ کی شرکت اور منگل کو ایران کے سپریم لیڈر سے ان کی ملاقات کے بعد پیش آیا۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو اس وقت امریکہ کے دورے پرہیں، جہاں ان کا کانگریس کوخطاب کرنے کا پروگرام ہے۔ اس پروگرام کے بعد ان کی امریکی صدر جو بائیڈن سے ملنے کا امکان ہے۔

غزہ کی وزارت صحت نے کہا کہ اسرائیل کے حملے میں اب تک غزہ علاقے میں 39 ہزارسے زیادہ فلسطینی مارے جاچکے ہیں اور 89 ہزارسے زیادہ لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ وزارت صحت کی فہرست میں فوجی اورعام شہری دونوں کوشامل کیا گیا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہونے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے کسی بھی معاہدے کواسرائیل کے جنگی اہداف کے حصول میں رکاوٹ نہیں بننا چاہئے۔ جب تک اسرائیل اپنے اہداف حاصل نہ کرلے اس وقت تک ہمیں جنگ جاری رکھنا ہوگی۔

ایک فلسطینی اہلکار نے کہا کہ اگر اسرائیل اس تجویز کو قبول کرتا ہے تو ہماری کوششوں سے ایک فریم ورک تیار ہو جائے گا۔ اس سے غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان 9 ماہ سے جاری جنگ کا خاتمہ ہو جائے گا۔

 اسرائیل اورلبنان کی جنگجو گروپ کے درمیان لڑائی تیز ہوگئی ہے۔ جنگجوگروپ نے کہا ہے کہ اس نے ایک دن پہلے اسرائیلی ہوائی حملے میں ایک سینئرکمانڈرکے قتل کا بدلہ لینے کے لئے شمالی اسرائیل میں 200 سے زیادہ راکٹ داغے اور ڈرون اڑائے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے بھی حزب اللہ کو اپنی پوری صلاحیتوں کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ دکھایا ہے اوراگر جنگ ہوئی تو لبنان کو دوسرے غزہ میں تبدیل کردیا جائے گا۔ اسرائیلی فوج نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ اس نے لبنان پر حملے کے لئے ایک نئے منصوبے کو منظوری دی ہے۔

امریکی صدرجوبائیڈن نے غزہ میں اسرائیلی شہریوں کی ہلاکتوں کے خدشات کے پیش نظر مئی سے کچھ بھاری بموں کی فراہمی میں تاخیرکی ہے۔ ساتھ ہی انتظامیہ بھی اس معاملے میں کسی قسم کی تجویز سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کررہی ہے۔ اسرائیل نے امریکہ کے اس قدم پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔