Bharat Express DD Free Dish

Israel Hamas War

غزہ میں اسرائیلی فوج کے ہوائی حملے جاری ہیں۔ اب تک 37 ہزار سے بھی زیادہ فلسطینی لوگوں کی جان جاچکی ہے۔ ایک طرف 7 اکتوبرکے حماس کے حملے سے متعلق اسرائیلی کارروائی رکنے کا نام نہیں لے رہی ہے تو دوسری طرف ایک دوسری رپورٹ دنیا بھر میں بحث کا موضوع ہے۔ رپورٹ میں کچھ دستاویزوں کے بنیاد پر دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے کچھ سینئر افسران کے پاس حماس کے حملے سے متعلق خفیہ جانکاری پہلے سے تھی۔

غزہ جنگ کی شروعات کے بعد امریکہ نے پہلی بار کسی اسرائیلی گروپ پرپابندی لگائی ہے۔ جس ٹی ایس اے وی 9 پرپابندی لگائی گئی، اس کے اوپر غزہ جارہی انسانی امداد میں رخنہ اندازی کرنے کا الزام لگا ہے۔

اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں لائی گئی جنگ بندی تجویز کی حمایت میں کونسل کے 14 اراکین نے ووٹ دیا ہے جبکہ روس ووٹنگ میں شامل نہیں ہوا۔ حماس نے تجویز منظور کرنے کا استقبال کیا اور ایک بیان میں کہا کہ وہ ثالثوں کے ساتھ تعاون کرنے کے لئے تیار ہے۔

غزہ جنگ میں کوئی ٹھوس حکمت عملی نہ ہونے کے سبب بنجامن نیتن یاہو ملک کے ہی اندرگھرتے جا رہے ہیں۔ یرغمالیوں کوواپس لانے اوراسرائیل کی سیکورٹی کے لئے کوئی ٹھوس حکمت عملی نہ ہونے کی وجہ سے اتحادی حکومت کے وزیربینی گینٹزنے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

اسرائیل نے یرغمالی بچاو مہم میں اپنے چار لوگوں کو حماس کی قید سے محفوظ باہر نکالا۔ جبکہ اسرائیل کے حملے میں 210 فلسطینیوں ہلاک ہوگئے ہیں، جس میں بچے بھی شامل ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ بچوں سمیت کم ازکم 210 فلسطینی افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ 400 سے زیادہ زخمی ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن کی تجویز نے نیتن یاہو کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ اس تجویز کے بعد نیتن یاہو کے آفس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جنگ ختم کرنے کی اسرائیل کی شرط میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

بیجنگ میں ہو رہے چین عرب اسٹیٹ کارپوریشن فورم کے سمٹ میں خطاب کرتے ہوئے شی جنپنگ نے تجارت کے علاوہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو ختم کرنے پر زور دیا۔ عرب ممالک کے ساتھ چین کا یہ سمٹ 2004 سے چل رہا ہے۔

غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ رفح میں بے گھر افراد کے لیے ایک کیمپ قائم کیا گیا جہاں اسرائیل نے حملہ کیا۔ اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 35 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کے ایلچی کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پاس اس فیصلے کو نافذ کرنے کا اختیار ہے، لیکن اسرائیل کو امید ہے کہ اس کے اہم اتحادی امریکہ، اقوام متحدہ کی باڈی میں اسے ویٹو کر دے گا۔

اسرائیل کو غزہ میں ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور تباہ کن انسانی بحران پر عالمی تنقید کا سامنا ہے۔ غزہ میں صرف دو ہفتوں کے دوران 900,000 سے زیادہ فلسطینی جنگ کی وجہ سے بے گھر ہو گئے ہیں اور اب اس کے پاس پناہ، خوراک، پانی اور ادویات کی شدید کمی ہے۔