Bharat Express DD Free Dish

Islamabad High Court

پاکستان کی سیاست میں ایک بڑی اور سنسنی خیز پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں سابق وزیر اعظم اور عالمی شہرت یافتہ کرکٹر عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ ٹو کیس میں 17، 17 سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی ایک عدالت میں ہونے والے خودکش دھماکے نے خطے میں ایک نئی سیاسی کشیدگی کو جنم دے دیا ہے۔ دھماکے میں کم از کم 12 افراد جاں بحق اور 36 زخمی ہوئے۔ واقعے کے چند گھنٹوں بعد ہی پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اس حملے کا الزام بھارت پر عائد کیا، جس پر نئی دہلی کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔

پی ٹی آئی نے فوجی عدالتوں میں شہریوں کے خلاف جاری مقدمات پر سوالات اٹھائے ہیں۔ اس میں الزام لگایا گیا کہ حکومت اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ 9 مئی کے واقعے کو عمران خان اور پارٹی کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانہ کی جانب سے بھیجی گئی خفیہ سفارتی کیبل (سائیفر) لیک کرنے پرآفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ جس کے بعد پاکستان کی خصوصی عدالت نے انہیں مجرم قراردیتے ہوئے 10 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

گزشتہ ماہ پی ٹی آئی نے 71 سالہ خان کی رہائی کو یقینی بنانے کے لیے پریڈ گراؤنڈ میں ایک بڑے جلسے کا اعلان کیا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکام کو پارٹی کو وفاقی دارالحکومت میں ریلی کرنے کی اجازت دینے کی بھی ہدایت کی تھی۔

پاکستان میں عام انتخابات سے ٹھیک پہلے نیب کورٹ نے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ معاملے میں 14 سال کی سزا سنائی تھی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس سزا کو معطل کردیا ہے، لیکن دونوں پر بڑا جرمانہ لگایا گیا ہے۔

پاکستان میں انتخابی نتائج میں ہوئی دھاندلی کے معاملے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے پیرکے روز فیصلہ سنایا۔ اس کے تحت تین انتخابی حلقوں کے نتائج کو معطل کردیا گیا۔

چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلا بیرسٹر سلمان صفدر اور عمیرنیازی عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کے جوڈیشل ریمانڈ میں 10اکتوبر تک توسیع کردی اور ایف آئی اے کو جلد چالان جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے بڑی راحت ملی ہے۔ عدالت نے ان کی سزا پر روک لگا دی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے نچلی عدالت کے فیصلے کو منسوخ کردیا ہے۔

عمران خان نے کہا ہے کہ جب وہ رواں ہفتے منگل کو اسلام آباد کی عدالت میں القادر ٹرسٹ کیس کی جانچ میں شامل ہونے جائیں گے تو انہیں دوبارہ گرفتار کیا جا سکتا ہے۔