Bharat Express DD Free Dish

Iran-Israel Conflict

اسرائیلی فوج نے اس حملے کی ذمہ داری لیتے ہوئے کہا کہ وہ تہران میں فوجی ٹھکانوں پر حملہ کررہی تھی، اسی دوران لویجان علاقہ میں بمباری ہوئی۔

ایران نے اسرائیل پر سخت حملہ کیا ہے۔ مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایرانی فوج نے بدھ کے روز تل ابیب پر الفتح-1 میزائل سے حملہ کیا۔الفتح ایک ہائپرسونک میزائل ہے، جو 5 میک کی رفتار سے ہدف کو نشانہ بناتا ہے۔

ٹرمپ نے اپنی آخری پوسٹ میں ’غیر مشروط سرنڈر‘ لکھا ہے۔ امریکہ ایران سے غیر مشروط سرنڈر چاہتا ہے۔ ایسا نہ ہونے کی صورت میں اس کے خلاف بڑی کارروائی ہو سکتی ہے۔ امریکہ کا اصل ہدف ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای ہو سکتے ہیں۔

 ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے تل ابیب میں موجود موساد کے ہیڈ کوارٹرکومیزائل حملے میں تباہ کردیا ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق، یہ کارروائی اسرائیل کے خلاف جوابی حملوں کے تحت کی گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، موساد کی سرگرمیوں کو چلانے والا یہ اہم مرکز پوری طرح برباد ہوگیا ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے رپورٹوں کی تردید کی، جس میں کہا گیا کہ وہ جنگ بندی پرکام کرنے کے لئے جی-7 سربراہی اجلاس سے قبل واپس واشنگٹن گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ تہران چھوڑنا ایرانیوں کے لئے بہترہوگا۔

امریکہ نے ایران کو وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ سبھی لوگوں کو تہران خالی کردینا چاہئے۔ وہیں دوسری طرف اسرائیل کے کئی شہروں میں دھماکے کی خبر ملی ہے۔ تل ابیب کے شمال میں ہرجلیا میں خطرناک دھامکہ ہوا ہے۔ 

ایران کے ایک میزائل نے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب میں امریکی سفارت خانہ کو نشانہ بنایا، جس سے عمارت کے ایک حصے کو نقصان ہوا۔ امریکی سفیر نے تصدیق کی ہے کہ سفارت خانہ کو نقصان ہوا ہے، لیکن سبھی اہلکار محفوظ ہیں۔ ایران کے اس حملے نے مشرق وسطیٰ کے اس جنگ کو مزید تیز کردیا ہے۔

ایران نے اس ہفتے کے شروع میں ایرانی جوہری اور دیگر اہداف پر اسرائیلی کے حملے کے جواب میں اسرائیل کی حیفہ بندرگاہ اور قریبی آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کیے گئے ویڈیو میں اسرائیل ڈیفنس فورسز نے دکھایا ہے کہ نیوکلیائی سائنسدانوں کو ہلاک کرنے کے لیے ایران میں کن ٹھکانوں کو ہدف بنایا گیا۔

اسرائیل ڈیفنس فورس (IDF) نے تصدیق کی ہے کہ ایران نے اسرائیل کی سرزمین پر میزائل حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان ہفتوں کی بڑھتی دشمنی کے بعد بڑھتی کشیدگی کی عکاسی کرتی ہے۔ اسرائیلی حکام نے ملک کو ہائی الرٹ پر رکھا ہوا ہے۔