Bharat Express DD Free Dish

Iran-Israel Conflict

ایران کے تین بڑے نیوکلیئرٹھکانوں پرامریکی بمباری کے بعد، ڈونالڈ ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہوسے کہا کہ یہ جنگ بند کرنے اورسفارتی مذاکرات میں واپس آنے کا وقت ہے۔

پیر کی دیر رات ایران نے عراق اور قطر میں امریکی فوجی اڈوں پر چھ میزائل داغے، جس سے خطے میں مزید کشیدگی بڑھ گئی۔ ایرانی میڈیا نے اس آپریشن کو فتح کا اعلان کا نام دیا۔ حالانکہ، امریکی پیٹریاٹ میزائل ڈیفنس سسٹم نے زیادہ تر میزائلوں کو روک دیا اور قطری اڈوں پر کوئی بڑا اثر نہیں ہوا۔

جنگ بندی کے بعد ایران نے موساد کے خلاف بڑی کارروائی کی ہے۔ ایران نے سائبرجاسوسی اورغداری کے الزام میں اپنے ملک سے موساد کے 6 جاسوسوں کوگرفتار کر لیا ہے۔ یہ جاسوس خفیہ معلومات اسرائیل کو بھیج رہے تھے اور مقامی لوگوں کو مشتعل کر رہے تھے۔

اسرائیلی افسران نے اظہارِ فکر کیا ہے کہ اگر ایران کی طرف سے میزائل حملہ ہوتا ہے اور وہ کسی بندرگاہ پر کھڑی الیکٹرک گاڑیوں کو نشانہ بناتا ہے تو خوفناک آگ لگ سکتی ہے، جسے بجھانا تقریباً ناممکن ہوگا۔

جموں وکشمیرکی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ایران پر اسرائیل اب حملے نہیں کرے گا۔ اس سے لگتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل چاہتے تھے کہ سیزفائرہو۔

ایکسیوس کے مطابق، ڈونالڈ ٹرمپ کے ایلچی نے ایران کو سمجھوتہ کے لیے بلایا توایران نے اپنی شرائط پیش کیں۔ ایران کا کہنا تھا کہ مذاکرات صرف اسی صورت میں ہوسکتی ہیں، جب اسرائیل حملہ روکے۔ امریکہ نے قطرکی سفارش پرجنگ بندی شروع کی تھی۔

جوہری پلانٹس پرامریکی حملے کے بعد ایران مکمل طورپرحملہ کرنے کا پلان بنا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق، ایران 24 سے 48 گھنٹوں میں بڑا حملہ کرے گا۔ یہ مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں پر حملہ کرسکتا ہے۔

ایران ایک بارپھرسرخیوں میں ہے۔ اسرائیل کے ساتھ 10 دنوں زیادہ سے جنگ جاری ہے۔ اب اس جنگ میں امریکہ بھی کود پڑا ہے۔ اس نے ایران کے نیوکلیئرٹھکانوں پرحملہ کردیا ہے۔ ہندوستان سے تعلق رکھنے والے ایک مشہور صنعتی گھرانے کا ہیڈ کوارٹرکئی سال تک ایران کے دارالحکومت تہران میں رہا۔

2025 میں چین سے ایران کو بھیجے گئے 1000 ٹن سوڈیم پرکلیوریٹ سے 800 بیلسٹک میزائلوں کا ایندھن تیار کیا جا سکتا ہے۔ یہ کھیپ ایران کی عسکری تنظیم IRGC (اسلامی انقلابی گارڈ کور) کے لیے تھی۔

جماعت اسلامی ہند کے مرکزی مجلس شوری کے اجلاس میں ایران پریکطرفہ اورجارحانہ امریکی حملے کی سخت مذمت کی گئی اور ایران کے عوام کے ساتھ یگانگت کا اظہارکیا گیا۔ جماعت اسلامی ہند نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کا یہ بحران دنیا بھر کے امن پسند اورانصاف پسند عوام کے لیے سخت تشویش اوراضطراب کا باعث ہے۔