Bharat Express DD Free Dish

Iran-Israel Conflict

ایران-اسرائیل جنگ کے درمیان پاکستان کا ایران کے تئیں حمایت دیکھنے کو ملی ہے۔ پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے امریکہ-اسرائیل کے حملے میں ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے ایران کے ساتھ کھڑا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے ایران کے خلاف چار روزہ فوجی حکمت عملی تیار کی تھی اور دن کے وقت کیے گئے حملوں میں ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کارروائی کے بعد ایران نے فوری ردعمل دیتے ہوئے بڑے پیمانے پر میزائل حملے شروع کر دیے، جس سے خطے میں مکمل جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

ایران پراگلے کچھ گھنٹوں میں انٹرنیشنل میڈیا رپورٹوں کے مطابق، بڑا حملہ ہونے کا خدشہ ہے۔ اس کی وجہ سے ایران اوراسرائیل کے ہوائی علاقوں سے گزرنے والی تمام پروازیں منسوخ کردی گئی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق، جنگ کے دوران امریکہ نے خامنہ ای کے ممکنہ ٹھکانوں کی معلومات اسرائیل کے ساتھ شیئر کیں، لیکن ٹرمپ نے مبینہ طور پر ایرانی لیڈر کے قتل کی اسرائیلی منصوبہ بندی کو ویٹو کر دیا۔

امریکہ سے واپس آنے والے اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے ایران کو 60 دن کا الٹی میٹم دے دیا ہے۔ اسرائیل نے واضح طور پرکہا ہے کہ ایران دوماہ کے اندرامریکہ سے ڈیل کرے اوراپنی افزودہ یورینیم تلف کرے ورنہ تباہی ہوگی۔

 ایران نے امریکہ کے ساتھ بات چیت کرنے سے متعلق شرط رکھ دی ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ جب تک امریکہ اوراسرائیل کی طرف سے مستقبل میں حملوں کوروکنے کی قابل اعتماد ضمانت نہیں دی جائے گی، تب تک دونوں ممالک سے کسی بھی طرح کی بات چیت بے ایمانی مانی جائے گی۔

ایران پر اسرائیل کے حملوں کو فرانس نے غلط بتایا ہے۔ صدر ایمینوئل میکرون نے ایرانی ہم منصبے پیزشکیان سے بات چیت میں کہا ہے کہ ایران کے نیوکلیئر پروگرام میں مداخلت کا اسرائیل کو کوئی حق نہیں ہے۔

ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہوکو یروشلم کی عدالت سے بڑا جھٹکا لگا ہے۔ عدالت نے ان کی بدعنوانی سے متعلق سماعت ملتوی کرنے کی درخواست مسترد کردی۔ نیتن یاہو کے وکلاء نے دلیل دی کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث انہیں کچھ وقت درکارہے، لیکن عدالت نے یہ دلیل قبول نہیں کی۔ اس فیصلے پرکئی وزراء نے ناراضگی ظاہرکی ہے۔

۔ ایران کے سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والی ایک ویڈیو میں آیت اللہ علی خامنہ ای نے قطر میں امریکی ایئربیس پر میزائل حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے "امریکہ کے منہ پر طمانچہ مارا ہے"۔

ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ خامنہ ای نے امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ کے ایرانی نیوکلیئرسہولیات پر حملے کے دعووں کوغلط بتایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کواس جنگ سے کوئی فائدہ نہیں ہوا اورایران جنگی پروگرام کو جاری رکھے گا۔