Bharat Express DD Free Dish

India politics

یہ معاملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک کی سیاست میں پارٹی بدلنے کا رجحان ایک بار پھر زور پکڑ رہا ہے، جس پر مختلف سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر شدید الزامات عائد کر رہی ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے کے قانونی اور سیاسی اثرات مزید واضح ہونے کا امکان ہے۔

امت شاہ نے ممتا بنرجی کے بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا ریاست میں ’’غنڈوں کو عزت دی جانی چاہیے؟‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ ترنمول کانگریس (TMC) کی قیادت ایسے عناصر کو تحفظ فراہم کرتی ہے جو عوام کو پریشان کرتے ہیں۔ یہ بیان دراصل ممتا بنرجی کے اس اعلان کے بعد آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ امت شاہ کے ’’پرتشدد بیانات‘‘ کے خلاف قانونی کارروائی کریں گی اور بطور وزیر داخلہ انہیں ایسی زبان استعمال نہیں کرنی چاہیے۔

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے کی پولنگ 29 اپریل کو ہوگی جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو طے ہے۔ انتخابات سے قبل ریاست میں سیاسی ماحول کافی گرم ہے، جہاں ایک طرف بی جے پی جارحانہ مہم چلا رہی ہے تو دوسری طرف ٹی ایم سی بھی اپنے دفاع میں سرگرم ہے۔ 

وزیرداخلہ نے جمعہ کو آرام باغ میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ٹی ایم سی کے مبینہ ’’غنڈوں‘‘ کو سخت وارننگ دی تھی۔ انہوں نے کہا تھا: ’’میں دیدی کے غنڈوں کو خبردار کرتا ہوں کہ 29 تاریخ کو اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ اگر عوام کو تنگ کیا گیا تو 5 مئی کے بعد انہیں الٹا لٹکا کر سیدھا کر دیا جائے گا۔‘‘

محمد اظہرالدین کی کرسی خطرے میں نظرآرہی ہے۔ آئین کے مطابق اگر کوئی شخص رکن اسمبلی یا قانون ساز کونسل (MLC) کا رکن نہ ہو تو وہ صرف چھ ماہ تک ہی وزیر رہ سکتا ہے۔ محمد اظہرالدین نے اب تک رکنیت نہیں حاصل کی ہے اور یہ مدت 30 اپریل 2026 کو ختم ہو رہی ہے

سواتی مالیوال نے دعویٰ کیا کہ وہ 2006 سے اروند کیجریوال کے ساتھ کام کر رہی تھیں، لیکن بعد میں انہیں پارٹی کے اندر ہراسانی اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز سواتی مالیوال اور راگھو چڈھا سمیت 7 راجیہ سبھا ممبروں نے عام آدمی پارٹی کو چھوڑ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔

الیکشن کمیشن آف انڈیا کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق شام 6 بجے تک مغربی بنگال میں 91.83 فیصد ووٹنگ درج کی گئی، جو غیر معمولی عوامی شرکت کو ظاہر کرتی ہے۔ سخت سکیورٹی کے درمیان ہونے والی اس پولنگ نے انتخابی عمل کو مزید اہم بنا دیا۔

وزیرداخلہ امت شاہ نے جمعرات کو کولکاتا میں بی جے پی دفتر میں پارٹی رہنماؤں کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کی، جو مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے سے قبل انتخابی حکمت عملی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے۔

نریندر مودی نے کہا کہ بنگال میں تبدیلی کی لہر کی قیادت خواتین کر رہی ہیں کیونکہ وہ موجودہ حکومت کی سب سے بڑی متاثرہ ہیں۔ انہوں نے آر جی کر اور سندیش کھالی جیسے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ ٹی ایم سی حکومت عصمت دری کے ملزمان اور غنڈوں کو تحفظ فراہم کرتی ہے اور خواتین کے ساتھ ہونے والی زیادتیاں ناقابلِ فراموش ہیں۔

وزیراعظم نے ٹی ایم سی پر بدعنوانی، کٹ منی اور سنڈیکیٹ راج کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی صرف اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہے، جبکہ بنگال کی ترقی رک گئی ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ آنے والے نتائج میں ریاست میں بڑی سیاسی تبدیلی دیکھنے کو ملے گی۔