Bharat Express DD Free Dish

India politics

تمل ناڈو میں اسمبلی انتخابات 23 اپریل کو ایک ہی مرحلے میں ہوں گے جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ یہ روڈ شو ایسے وقت میں منعقد ہوا ہے جب ریاست میں انتخابی سرگرمیاں عروج پر ہیں اور مختلف سیاسی جماعتیں عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے بھرپور کوشش کر رہی ہیں۔

مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات 23 اور 29 اپریل کو دو مرحلوں میں ہوں گے جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو ہوگی۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی مسلسل چوتھی بار اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، جبکہ بی جے پی ریاست میں حکومت بنانے کے لیے پوری طاقت لگا رہی ہے۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ بی جے پی خواتین کو حقوق، تحفظ اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے، جبکہ ٹی ایم سی نے پارلیمنٹ میں خواتین ریزرویشن کی مخالفت کی۔ انہوں نے بنگال کی خواتین سے اپیل کی کہ وہ اپنے حقوق کے لیے فیصلہ کن کردار ادا کریں اور آئندہ انتخابات میں ٹی ایم سی کو جواب دیں۔

تمل ناڈو میں اسمبلی انتخابات 23 اپریل کو ایک ہی مرحلے میں ہوں گے، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ ریاست میں اصل مقابلہ ڈی ایم کے کی قیادت والے سیکولر پروگریسو اتحاد اور این ڈی اے کے درمیان متوقع ہے، جس میں بی جے پی اور دیگر اتحادی جماعتیں شامل ہیں۔

کانگریس لیڈر راگنی نائک نے الزام لگایا کہ حکومت حدبندی کو ایک ’’ہتھیار‘‘ کے طور پر استعمال کر رہی ہے اور اس کے ذریعے ملک کی یکجہتی کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم مودی کے خطاب کو کانگریس کے خلاف سازش بھی کہا۔

نریندر مودی نے کہا کہ عوام نے ٹی ایم سی حکومت کو 15 سال دیے، جو ایک طویل مدت ہے، مگر اس دوران عوام کو کوئی خاص فائدہ نہیں ملا۔ قبائلی علاقوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وہاں ’’نہ پڑھائی، نہ کمائی، نہ دوائی اور نہ ہی سینچائی‘‘ کی صورتحال ہے اور ہر شعبہ بدحال ہے۔ 

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات دو مرحلوں میں 23 اور 29 اپریل کو ہوں گے جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو ہوگی۔ ممتا بنرجی چوتھی بار اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، جبکہ بی جے پی ریاست میں حکومت بنانے کے لیے بھرپور مہم چلا رہی ہے۔

راہل گاندھی نے مرکز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’پارلیمنٹ میں جو خواتین بل پیش کیا گیا، اس کا مقصد دراصل اسے پاس کرانا نہیں تھا بلکہ اس کے ذریعے حلقہ بندی بل کو خاموشی سے منظور کروانا تھا۔ وہ ہندوستان کے انتخابی نظام کو تبدیل کرنا چاہتے تھے۔‘‘

وزیراعظم نے کہا کہ 2029 کے انتخابات میں خواتین کو ان کا حق دینے کی کوشش کی جا رہی تھی، مگر اپوزیشن کے رویے کی وجہ سے یہ ممکن نہ ہو سکا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ملک کی خواتین اس سب کو دیکھ رہی ہیں اور وقت آنے پر فیصلہ کریں گی۔

ایک طرف عدالت میں اس کی سماعت جاری ہے، تو دوسری جانب سیاسی حلقوں میں بھی اس پر بحث تیز ہو گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق عدالت کا حالیہ فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عدالتی عمل میں فریقین کو مکمل موقع دینا بنیادی اصول ہے۔ حتمی فیصلہ آنے تک یہ معاملہ زیر سماعت رہے گا اور اس کے نتائج مستقبل کی سیاست پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔