Bharat Express DD Free Dish

India politics

ممتا بنرجی نے دعویٰ کیا کہ حکومت 543 نشستوں کے بجائے 850 نشستیں کرنے کے منصوبے کے ذریعے انتخابی توازن کو بدلنا چاہتی تھی۔ ان کے مطابق بی جے پی کو خدشہ تھا کہ موجودہ حلقوں میں کامیابی مشکل ہے، اسی لیے وہ حلقہ بندی کے ذریعے نئے سیاسی حالات پیدا کرنا چاہتی ہے۔

احتجاج کے دوران بی جے پی خواتین اراکین پارلیمنٹ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کی رہائش گاہ کی طرف مارچ کر رہی تھیں۔ جن لیڈروں کو حراست میں لیا گیا ان میں مرکزی وزیرمملکت رکشا کھڈسے، بی جے پی رکن پارلیمنٹ بانسری سوراج اور کمل جیت سہراوت شامل ہیں۔

واضح رہے کہ 17 اپریل کو لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن سے متعلق آئینی ترمیمی بل پیش کیا گیا تھا، جس پر تقریباً 21 گھنٹے طویل بحث کے بعد ووٹنگ ہوئی۔ ووٹنگ میں 528 ارکان نے حصہ لیا، جن میں 298 نے بل کے حق میں جبکہ 230 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ تاہم بل کو پاس کرنے کے لیے دو تہائی اکثریت یعنی 352 ووٹ درکار تھے، جس کے باعث یہ بل 54 ووٹوں سے مسترد ہو گیا۔

منوج تیواری نے اپنے بیان میں ڈی ایم کے، کانگریس، سماجوادی پارٹی اور ترنمول کانگریس کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان جماعتوں کے لیے خواتین کو بااختیار بنانے کی باتیں محض تقریروں تک محدود ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ پارٹیاں حقیقت میں خواتین کی بڑھتی ہوئی سیاسی شمولیت سے خوفزدہ ہیں۔

عدالت اس وقت ایک نظرثانی عرضی کی سماعت کر رہی ہے، جو مجسٹریٹ عدالت کے اس فیصلے کے خلاف دائر کی گئی ہے جس میں ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کیا گیا تھا۔ گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے یہ اہم سوال اٹھایا تھا کہ اگر سونیا گاندھی 1983 میں شہری بنی تھیں تو 1980 میں ان کا نام ووٹر لسٹ میں کیسے شامل ہوا۔

مجوزہ قانون سازی کے تحت خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کو عملی شکل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو کہ ’’ناری شکتی وندن ادھینیم‘‘ سے جڑا ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ہی لوک سبھا کی کل نشستوں کو موجودہ 543 سے بڑھا کر زیادہ سے زیادہ 850 تک کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

امت شاہ نے واضح کیا کہ بل پیش کیے جانے کے مرحلے پر اس کی خوبیوں یا خامیوں پر سوال نہیں اٹھایا جاسکتا، بلکہ صرف تکنیکی اعتراضات ہی قابل قبول ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ان تمام اعتراضات کا تفصیلی اور ’’مضبوط جواب‘‘ بحث کے دوران دے گی۔

حکومت کی جانب سے خواتین ریزرویشن اور نشستوں میں اضافے کے لیے تین اہم بل پیش کردیے گئے ہیں۔ ان بلوں کا مقصد 2023 میں منظور شدہ ’’ناری شکتی وندن ادھینیم‘‘ کو مکمل طور پر نافذ کرنا اور خواتین کو قانون ساز اداروں میں نمائندگی فراہم کرنا ہے۔ اجلاس کے آغاز کے ساتھ ہی لوک سبھا میں حد بندی بل پیش کیے جانے پر زبردست ہنگامہ دیکھنے کو ملا، جہاں اپوزیشن نے اس اقدام پر سخت اعتراضات ظاہر کیے۔

ممتابنرجی نے بی جے پی کو ’’بنگال مخالف‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی ریاست کے لوگوں کو دیگر بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں مشکلات اور توہین کا سامنا کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی بنگال کی زبان، ثقافت، طرزِ زندگی اور تنوع کو ختم کرکے یکسانیت مسلط کرنا چاہتی ہے۔

آج خصوصی پارلیمانی اجلاس میں وزیر قانون ارجن رام میگھوال آئینی ترمیم اور حدبندی بل پیش کریں گے، جبکہ وزیر داخلہ امت شاہ یونین ٹیریٹریز سے متعلق ترمیمی بل ایوان میں لائیں گے۔ حکومت نے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس 16 سے 18 اپریل تک طلب کیا ہے تاکہ خواتین کے لیے ریزرویشن سے متعلق قانون کو 2029 کے عام انتخابات سے پہلے نافذ کیا جا سکے۔