Bharat Express DD Free Dish

India politics

22 اپریل 2025 کو پہلگام کی خوبصورت بیسرن وادی میں سیاحت کے لیے آئے افراد پر دہشت گردوں نے اچانک حملہ کر دیا تھا۔ حملہ آوروں نے نہایت سفاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لوگوں سے ان کا نام اور مذہب پوچھ کر انہیں گولیوں کا نشانہ بنایا۔ اس دل دہلا دینے والے واقعے میں 26 بے گناہ افراد ہلاک ہو گئے تھے

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات دو مرحلوں میں منعقد ہو رہے ہیں۔ پہلے مرحلے میں 23 اپریل کو 152 نشستوں پر ووٹنگ ہوگی جبکہ باقی 142 نشستوں پر 29 اپریل کو پولنگ ہوگی۔ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ ریاست میں اس بار مقابلہ خاصا سخت مانا جا رہا ہے۔

وزیرداخلہ نے دعویٰ کیا کہ راہل گاندھی کی قیادت میں کانگریس کو تمل ناڈو، پڈوچیری، آسام اور مغربی بنگال میں بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ بنگال کے ووٹرز اب تبدیلی چاہتے ہیں اور بی جے پی ریاست میں ’’سونار بنگلہ‘‘ کا خواب پورا کرے گی۔

یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب کانگریس صدر کھڑگے نے تمل ناڈو میں ایک انتخابی تقریر کے دوران مودی کے خلاف سخت الفاظ استعمال کیے، جس پر بی جے پی نے سخت اعتراض کرتے ہوئے معافی کا مطالبہ کیا اور معاملہ الیکشن کمیشن تک پہنچا دیا۔

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کی ووٹنگ 23 اپریل کو جبکہ دوسرے مرحلے کی ووٹنگ 29 اپریل کو ہوگی، اور نتائج 4 مئی کو سامنے آئیں گے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان مسلسل رابطہ اور خیرسگالی کے پیغامات نہ صرف اتحاد کو مضبوط کرتے ہیں بلکہ مشترکہ ترقیاتی اہداف کو بھی آگے بڑھاتے ہیں۔

عدالت کا سخت موقف اختیار کرتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ دہلی اروند کیجریوال کی عرضی مسترد کردی۔ جسٹس سوَرن کانتا شرما کے خلاف جانبداری کے الزامات ناکافی قرار، عدالت نے کہا شبہات پر فیصلے عدالتی نظام کو کمزور کریں گے۔

راہل گاندھی نے مزید کہا کہ بی جے پی ایسی حکومت چاہتی ہے جو اس کے اشاروں پر چلے، لیکن تمل ناڈو کے عوام ایسا کبھی نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا ’’چاہے وہ کچھ بھی خواب دیکھیں، وہ نہ تمل ناڈو کے عوام کو کنٹرول کر سکتے ہیں اور نہ ہی یہاں کی حکومت کو۔‘‘

سپریا شرینیت نے کہا کہ خواتین ریزرویشن کی بنیاد کانگریس نے ہی رکھی تھی، جب پنچایتی راج انتخابات میں 33 فیصد ریزرویشن دیا گیا۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج ملک میں لاکھوں منتخب خواتین نمائندے اسی پالیسی کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش کرے گی تو اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

وزیراعظم مودی نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت کے دور میں کسانوں کو ان کی پیداوار کی مناسب قیمت نہیں مل رہی اور بازاروں میں دلالی کا نظام حاوی ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ بی جے پی حکومت بننے پر ان دلالوں کو بازاروں سے باہر کر دیا جائے گا تاکہ کسانوں کو براہِ راست فائدہ مل سکے۔