نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال کی وہ درخواست مسترد کر دی جس میں ایکسائز پالیسی کیس میں جسٹس سوَرن کانتا شرما سے خود کو الگ کرنے (Recusal) کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ عدالت نے واضح کیا کہ جانبداری کے الزامات بے بنیاد ہیں اور قانون میں مقرر ’’معقول اندیشۂ تعصب‘‘ کے معیار پر پورا نہیں اترتے۔ جسٹس سوَرن کانتا شرما نے اپنے حکم میں کہا کہ درخواستیں ثبوت کے بجائے محض اشاروں اور الزامات پر مبنی ہیں۔ عدالت نے کہا کہ اگر صرف شبہات کی بنیاد پر ایسے مطالبات تسلیم کیے جائیں تو اس سے عدالتی عمل کمزور ہوگا اور ادارہ جاتی سالمیت متاثر ہوگی۔ فیصلے میں کہا گیا: ’’جج کسی فریق کے بے بنیاد شبہات کو مطمئن کرنے کے لیے خود کو الگ نہیں کرسکتا، عدالت کو تاثر کا تھیٹر نہیں بنایا جا سکتا۔‘‘
مفادات کے ٹکراؤ اور دیگر اعتراضات مسترد
عدالت نے اس دلیل کو بھی رد کر دیا کہ جج کے بچوں کا مرکزی حکومت کے وکیل کے طور پر پینل میں شامل ہونا مفادات کے ٹکراؤ کا باعث ہے۔ عدالت کے مطابق جب تک کسی کیس سے براہ راست تعلق ثابت نہ ہو اس بنیاد پر جانبداری فرض نہیں کی جا سکتی۔ اسی طرح سپریم کورٹ کی جانب سے بعض فیصلوں کو کالعدم قرار دیے جانے کو بھی Recusal کی بنیاد ماننے سے انکار کیا گیا۔
عدلیہ کے وقار پر زور، کیس کی سماعت جاری رہے گی
عدالت نے کہا کہ کوئی بھی بااثر سیاست دان بغیر ثبوت عدالتی ادارے کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ جسٹس شرما نے کہا کہ ایسے مطالبات ایک ’’کیچ-22‘‘ صورت حال پیدا کرتے ہیں اگر عدالت الگ ہو تو الزامات کو تقویت ملتی ہے اور اگر نہ ہو تو فیصلے پر سوال اٹھتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عدالتی ذمہ داری محض عوامی تنقید یا قیاس آرائیوں پر ترک نہیں کی جا سکتی۔ آخر میں عدالت نے عرضی کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا اور کہا کہ ایسے مطالبات کو قبول کرنا انصاف کی فراہمی کے بجائے اسے ’’منظم‘‘ کرنے کے مترادف ہوگا۔ یہ معاملہ دہلی ایکسائز پالیسی 2021-22 کیس سے متعلق ہے جس میں سی بی آئی نے اروند کیجریوال، منیش سسودیا اور دیگر کو بری کیے جانے کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے، اور اب عدالت اس کیس کی سماعت میرٹ پر آگے بڑھائے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


