Bharat Express DD Free Dish

judicial decision

عدالتی ریکارڈ کے مطابق ڈاکٹر اشون ہیبار کے خلاف پہلا مقدمہ 12 اگست 2022 کو ایک جونیئر ریزیڈنٹ ڈاکٹر کی شکایت پر درج ہوا تھا، جبکہ دوسرا مقدمہ 19 جون 2025 کو ایک پوسٹ گریجویٹ طالبہ نے درج کرایا۔ دونوں مقدمات میں انہیں گرفتار کیا گیا، تاہم بعد میں عدالت سے ضمانت مل گئی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ڈاکٹر ہیبار نے اپنی بحالی کے لیے سیاسی شخصیات اور بعض غیر سرکاری تنظیموں کے سفارشی خطوط کا سہارا لیا۔ 

عدالت نے نچلی عدالت کے فیصلے میں مداخلت سے انکار کر دیا ہے اور تین ماہ قید اور مجموعی طور پر 7.35 کروڑ روپے جرمانے کو برقرار رکھا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے اداکار کو سپریم کورٹ سے رجوع کے لیے دو ماہ کی مہلت بھی دی ہے۔

نامزدگی مسترد ہونے کے بعد کانگریس کے اعلیٰ رہنماؤں نے الیکشن کمیشن سے ملاقات کر کے فیصلے کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔ بعد ازاں پارٹی نے اس معاملے میں سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بیف سے متعلق قانون کے تحت کارروائی کے لیے مجاز لیبارٹری سے تصدیق لازمی ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگر حکومت چاہے تو یہ معاوضہ متعلقہ افسران، بشمول میرٹھ ڈویژن کے کمشنر، ضلع مجسٹریٹ اور متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او سے وصول کرسکتی ہے۔

یہ معاملہ 2020 میں بالی ووڈ اداکار سشانت سنگھ راجپوت کی موت کے بعد شروع ہوا تھا، جب تحقیقات کے دوران منشیات سے جڑا پہلو سامنے آیا۔ اسی سلسلے میں ریا چکرورتی اور ان کے بھائی کا نام بھی سامنے آیا، جس کے بعد این سی بی نے ان کے مالی لین دین پر نظر رکھتے ہوئے بینک اکاؤنٹس فریز کر دیے تھے۔

عدالت کا سخت موقف اختیار کرتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ دہلی اروند کیجریوال کی عرضی مسترد کردی۔ جسٹس سوَرن کانتا شرما کے خلاف جانبداری کے الزامات ناکافی قرار، عدالت نے کہا شبہات پر فیصلے عدالتی نظام کو کمزور کریں گے۔

ایک طرف عدالت میں اس کی سماعت جاری ہے، تو دوسری جانب سیاسی حلقوں میں بھی اس پر بحث تیز ہو گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق عدالت کا حالیہ فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عدالتی عمل میں فریقین کو مکمل موقع دینا بنیادی اصول ہے۔ حتمی فیصلہ آنے تک یہ معاملہ زیر سماعت رہے گا اور اس کے نتائج مستقبل کی سیاست پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

عدالت نے مزید ہدایت دی کہ عبوری ضمانت کی مدت ختم ہونے پر 30 مارچ کی شام تک شرجیل امام کو جیل سپرنٹنڈنٹ کے سامنے خود کو حوالے کرنا ہوگا اور اس کی تعمیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے گی۔

جسٹس سورن کانت شرما کی بنچ نے حکم جاری کرتے ہوئے ہدایت دی کہ راجپال یادو ایک لاکھ روپے کا ذاتی مچلکہ اور اتنی ہی رقم کا ایک ضامن پیش کریں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ مدعا علیہ کی جانب سے ڈیڑھ کروڑ روپے مدعی کے بینک اکاؤنٹ میں جمع کرائے جا چکے ہیں، جسے راحت دیتے وقت پیش نظر رکھا گیا۔

جمعیۃ کے صدر مولانا محمود مدنی کی جانب سے دائر عرضی میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ’مِیا‘ آسام میں مسلمانوں کے لیے توہین آمیز اصطلاح کے طور پر استعمال ہوتا ہے اور کسی اعلیٰ آئینی عہدے پر فائز شخص کی جانب سے ایسا بیان محض سیاسی بیان بازی یا آزادیٔ اظہار کے دائرے میں نہیں آ سکتا۔