الہٰ آباد ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں اتر پردیش حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ محمد چاند نامی شہری کو دو لاکھ روپے کا معاوضہ ادا کرے، جن کی گاڑی کو 2024 میں مبینہ طور پر ’’بیف لے جانے‘‘ کے الزام میں ضبط کر لیا گیا تھا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس بات کا کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا کہ ضبط شدہ گوشت گائے یا اس کی نسل کا تھا۔ جسٹس سندیپ جین کی سنگل بینچ نے 27 اپریل کے حکم میں کہا کہ ریاستی حکام کی من مانی کارروائی کے سبب درخواست گزار کو شدید مالی نقصان اٹھانا پڑا، جس کا ازالہ ضروری ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ یہ معاوضہ سات دن کے اندر ادا کیا جائے۔
کیس کی تفصیلات اور پس منظر
درخواست گزار محمد چاند نے ضلع باغپت کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے اس حکم کو چیلنج کیا تھا، جس کے تحت ان کی مہندرا پک اپ گاڑی ضبط کی گئی تھی۔ ان کے خلاف Uttar Pradesh Prevention of Cow Slaughter Act, 1955 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ بعد میں منڈل کمشنر نے بھی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے اپیل مسترد کر دی تھی۔ درخواست کے مطابق 18 اکتوبر 2024 کو پولیس نے چیکنگ کے دوران گاڑی سے گوشت برآمد کرنے کا دعویٰ کیا اور محمد چاند سمیت ایک اور شخص کو گرفتار کر لیا۔ پولیس نے یہ بھی الزام لگایا کہ کارروائی کے دوران ملزمان نے فائرنگ کی، جس کی بنیاد پر اقدام قتل اور اسلحہ ایکٹ کے تحت بھی مقدمہ درج کیا گیا۔
گوشت کی شناخت پر سوالات
سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ویٹرنری ڈاکٹر کی رپورٹ میں گوشت کی نوعیت کے بارے میں کوئی واضح نتیجہ نہیں دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ذمہ داری استغاثہ پر عائد ہوتی ہے کہ وہ ثابت کرے کہ برآمد شدہ گوشت واقعی گائے کا تھا۔ دوسری جانب ریاست کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ رپورٹ میں گوشت کو ’’ممکنہ طور پر‘‘ گائے یا اس کی نسل کا بتایا گیا ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اس دعوے کی حتمی تصدیق کے لیے کوئی مستند دستاویز موجود نہیں ہے۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ باغپت کے ویٹرنری اسپتال میں گوشت کی جانچ کی گئی تھی، لیکن جانچ کرنے والا خود اس کے ماخذ کے بارے میں مطمئن نہیں تھا اور اس نے مزید تحقیق کی سفارش کی تھی، جس کی کوئی حتمی رپورٹ پیش نہیں کی گئی۔
عدالت کے ریمارکس اور ہدایات
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ گائے کے ذبیحہ سے متعلق قانون کے تحت کارروائی کے لیے مجاز لیبارٹری سے تصدیق لازمی ہے۔ اس کے بغیر یہ نہیں مانا جا سکتا کہ برآمد شدہ گوشت بیف تھا۔ بنچ نے کہا کہ بغیر ٹھوس ثبوت کے گاڑی ضبط کرنا نہ صرف غیر قانونی بلکہ آئینی اصولوں کے بھی خلاف ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ مذکورہ گاڑی درخواست گزار کے روزگار کا ذریعہ تھی اور اسے 18 ماہ سے زائد عرصے تک ضبط رکھنے سے اسے شدید مالی نقصان پہنچا۔ اسی بنیاد پر عدالت نے دو لاکھ روپے معاوضہ دینے کا حکم دیا اور ساتھ ہی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور منڈل کمشنر کے احکامات کو منسوخ کر دیا۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت دی کہ گاڑی تین دن کے اندر رہا کی جائے۔ عدالت نے کہا کہ اگر حکومت چاہے تو یہ معاوضہ متعلقہ افسران، بشمول میرٹھ ڈویژن کے کمشنر، ضلع مجسٹریٹ اور متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او سے وصول کر سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
