Bharat Express DD Free Dish

legal relief

وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ ’چوکیدار چور ہے‘ تبصرے سے متعلق فوجداری ہتک عزت کیس میں سپریم کورٹ نے راہل گاندھی کو راحت دیتے ہوئے نچلی عدالت کی کارروائی پر عبوری روک لگا دی۔ عدالت نے مہاراشٹر حکومت اور شکایت کنندہ سے جواب طلب کیا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بیف سے متعلق قانون کے تحت کارروائی کے لیے مجاز لیبارٹری سے تصدیق لازمی ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگر حکومت چاہے تو یہ معاوضہ متعلقہ افسران، بشمول میرٹھ ڈویژن کے کمشنر، ضلع مجسٹریٹ اور متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او سے وصول کرسکتی ہے۔

ایک طرف عدالت میں اس کی سماعت جاری ہے، تو دوسری جانب سیاسی حلقوں میں بھی اس پر بحث تیز ہو گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق عدالت کا حالیہ فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عدالتی عمل میں فریقین کو مکمل موقع دینا بنیادی اصول ہے۔ حتمی فیصلہ آنے تک یہ معاملہ زیر سماعت رہے گا اور اس کے نتائج مستقبل کی سیاست پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

عدالت نے مزید ہدایت دی کہ عبوری ضمانت کی مدت ختم ہونے پر 30 مارچ کی شام تک شرجیل امام کو جیل سپرنٹنڈنٹ کے سامنے خود کو حوالے کرنا ہوگا اور اس کی تعمیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے گی۔

جسٹس سوریا کانت اور جسٹس جوائے مالا باگچی پر مشتمل بنچ کا یہ حکم اس وقت آیا جب ہریانہ پولیس نے عدالت کو بتایا کہ محمودآباد کے خلاف ایک ایف آئی آر میں کلوزر رپورٹ داخل کر دی گئی ہے اور دوسری ایف آئی آر میں چارج شیٹ پیش کی گئی ہے۔ اس پر عدالت نے وہ ایف آئی آر منسوخ کر دی جس میں کلوزر رپورٹ داخل کی گئی تھی، جبکہ دوسری ایف آئی آر میں مجسٹریٹ کو کارروائی کرنے سے روک دیا۔