Bharat Express DD Free Dish

India politics

ویڈیو میں سیانی گھوش کو مبینہ طور پر یہ کہتے ہوئے سنا گیا: ’’چڈھا، چڈی بن سکتا ہے‘‘ جو کہ راگھو چڈھا کے حوالے سے کہا گیا، جنہوں نے حال ہی میں عام آدمی پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کی ہے۔ بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ یہ جملہ نہ صرف ایک سیاسی طنز تھا بلکہ اس میں سکھ اور پنجابی شناخت کا مذاق اڑایا گیا ہے۔

اروند کیجریوال نے واضح کیا کہ وہ نہ تو خود عدالت میں پیش ہوں گے اور نہ ہی کسی وکیل کے ذریعے اپنی نمائندگی کروائیں گے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کیس کی کارروائی میں جانبداری اور مفادات کے ٹکراؤ جیسے مسائل موجود ہیں۔

ماہرین کے مطابق سسودیا اور کیجریوال کے یہ خطوط نہ صرف قانونی بلکہ سیاسی سطح پر بھی اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ یہ عدالتی عمل پر براہ راست سوال اٹھاتے ہیں۔ فی الحال اس معاملے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ آگے کی کارروائی پر سب کی نظریں مرکوز ہیں کہ آیا عدالت اس پر کوئی مزید ردِ عمل ظاہر کرتی ہے یا نہیں۔

وزیراعظم مودی نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف ملیں بند ہو رہی ہیں، دوسری طرف دیسی بم بنانے کے کارخانے چل رہے ہیں، غنڈوں کو روزگار مل رہا ہے اور ٹی ایم سی کا سنڈیکیٹ پھیل رہا ہے۔ یہ ٹی ایم سی کا مہا جنگل راج ہے۔

بیرک پور(مغربی بنگال): وزیراعظم نریندر مودی نے پیر کے روز کہا کہ ’’وندے ماترم‘‘ نے ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں ایک مضبوط اور رہنما کردار ادا کیا تھا اور اب وقت آگیا ہے کہ اسے 21ویں صدی میں مغربی بنگال کی تعمیرِ نو اور ہمہ جہت ترقی کے لیے ایک منتر کے طور پر …

بیراک پور اسمبلی حلقہ، جو مغربی بنگال کے شمالی 24 پرگنہ ضلع میں واقع ہے، دوسرے مرحلے کی ووٹنگ میں ایک سہ رخی مقابلے کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یہاں ترنمول کانگریس، بی جے پی اور سی پی آئی (ایم) کے امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔

اس فیصلے کے بعد ایوانِ بالا میں بی جے پی کی مجموعی طاقت بڑھ کر 113 ہو گئی ہے، جبکہ عام آدمی پارٹی کو بڑا دھچکا لگا ہے اور اس کی تعداد گھٹ کر صرف تین رہ گئی ہے۔

دورے کی تفصیلات شیئر کرتے ہوئے لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے کہا کہ انہیں اس بات کی خوشی ہے کہ وزیر داخلہ لیہہ کا دورہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ دورہ خطے کی ترقی کے لیے حکومتِ ہند کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔

کانگریس لیڈر نے خواتین کے تحفظ کے معاملے پر بھی بی جے پی اور ترنمول کانگریس دونوں کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دونوں جماعتیں اپنے اپنے علاقوں میں ملزمان کو تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے آر جی کر میڈیکل کالج کے مبینہ ریپ اور قتل کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے معاملات میں جوابدہی کا فقدان ہے اور حکومتیں مجرموں کے خلاف سخت کارروائی نہیں کرتیں۔

یہ معاملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک کی سیاست میں پارٹی بدلنے کا رجحان ایک بار پھر زور پکڑ رہا ہے، جس پر مختلف سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر شدید الزامات عائد کر رہی ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے کے قانونی اور سیاسی اثرات مزید واضح ہونے کا امکان ہے۔