Bharat Express DD Free Dish

Merger of AAP MPs: راجیہ سبھا چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے راگھو چڈھا سمیت سات ممبران کے بے جی پی میں انضمام کو دی منظوری

اس فیصلے کے بعد ایوانِ بالا میں بی جے پی کی مجموعی طاقت بڑھ کر 113 ہو گئی ہے، جبکہ عام آدمی پارٹی کو بڑا دھچکا لگا ہے اور اس کی تعداد گھٹ کر صرف تین رہ گئی ہے۔

نئی دہلی: راجیہ سبھا میں ایک اہم سیاسی پیش رفت کے تحت چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے راگھو چڈھا سمیت سات ارکان کے عام آدمی پارٹی سے علیحدہ ہو کر بی جے پی میں انضمام کو منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد ایوانِ بالا میں بی جے پی کی مجموعی طاقت بڑھ کر 113 ہو گئی ہے، جبکہ عام آدمی پارٹی کو بڑا دھچکا لگا ہے اور اس کی تعداد گھٹ کر صرف تین رہ گئی ہے۔ پارٹی کے سات میں سے دو تہائی ارکان کے الگ ہونے سے عام آدمی پارٹی کو شدید سیاسی نقصان پہنچا ہے۔ جمعہ کے روز راگھو چڈھا، سندیپ پاٹھک اور اشوک متل نے باضابطہ طور پر پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ بعد ازاں ہربھجن سنگھ، راجندر گپتا، وکرم جیت سنگھ سہنی اور سواتی مالیوال بھی بی جے پی کے ساتھ جا ملے، جس سے پارٹی کی پارلیمانی پوزیشن مزید کمزور ہو گئی۔

آئینی دفعات کے تحت انضمام قانونی قرار

ادھر عام آدمی پارٹی کے رکن سنجے سنگھ نے چیئرمین کے سامنے درخواست دائر کر کے ان ارکان کو نااہل قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ درخواست میں آئین کی دسویں شیڈول کی مختلف دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ یہ انضمام غیر قانونی ہے۔ تاہم، آئینی ضابطوں کے مطابق اگر کسی جماعت کے دو تہائی ارکان کسی دوسری جماعت میں شامل ہو جائیں تو اسے انضمام تصور کیا جاتا ہے اور ایسے معاملے میں نااہلی لاگو نہیں ہوتی۔ چونکہ سات ارکان اس شرط پر پورا اترتے تھے، اس لیے چیئرمین نے اس انضمام کو درست قرار دے دیا۔

سیاسی ردعمل: ’غداری‘ بمقابلہ ’استقبال‘

اس پیش رفت کے بعد سیاسی حلقوں میں سخت ردعمل دیکھنے کو ملا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے رہنماؤں نے اسے ’’غداری‘‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔ دوسری طرف بھارتیہ جنتا پارٹی نے ان ارکان کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے اپنی پالیسیوں پر اعتماد کا مظہر بتایا ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف پارلیمانی سیاست میں توازن کو متاثر کرتا ہے بلکہ آنے والے دنوں میں اپوزیشن کی حکمت عملی پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read