Bharat Express DD Free Dish

Electoral List Matter: شہریت سے قبل حق رائے دہی معاملے پر سونیا گاندھی کو عدالت کی ہدایت، ایک ہفتے میں تحریری دلائل جمع کرانے کا حکم

عدالت اس وقت ایک نظرثانی عرضی کی سماعت کر رہی ہے، جو مجسٹریٹ عدالت کے اس فیصلے کے خلاف دائر کی گئی ہے جس میں ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کیا گیا تھا۔ گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے یہ اہم سوال اٹھایا تھا کہ اگر سونیا گاندھی 1983 میں شہری بنی تھیں تو 1980 میں ان کا نام ووٹر لسٹ میں کیسے شامل ہوا۔

نئی دہلی: راؤز ایونیو کورٹ نے ہفتہ کے روز سونیا گاندھی کے انتخابی فہرست میں نام شامل ہونے سے متعلق معاملے میں فریقین کے وکلا کو ہدایت دی کہ وہ ایک ہفتے کے اندر اپنے تحریری دلائل عدالت میں جمع کرائیں۔ یہ معاملہ اس دعوے سے متعلق ہے کہ سونیا گاندھی کا نام 1980 میں ووٹر لسٹ میں شامل کیا گیا، جب وہ ابھی ہندوستانی شہری نہیں بنی تھیں۔ شکایت گزار وکاس ترپاٹھی نے اس بنیاد پر قانونی کارروائی کی درخواست کی ہے۔

ایف آئی آر درج نہ کرنے کے فیصلے کو چیلنج

عدالت اس وقت ایک نظرثانی عرضی کی سماعت کر رہی ہے، جو مجسٹریٹ عدالت کے اس فیصلے کے خلاف دائر کی گئی ہے جس میں ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کیا گیا تھا۔ شکایت گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ یہ فیصلہ غیر قانونی اور نامناسب ہے۔ سینئر وکیل اجے برمن نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سونیا گاندھی 1983 میں ہندوستانی شہری بنی تھیں، اس سے قبل ان کا نام ووٹر لسٹ میں شامل ہونا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ ان کے مطابق، یہ معاملہ جعلسازی، دھوکہ دہی یا غلط معلومات فراہم کرنے سے متعلق ہو سکتا ہے، جس کی مکمل جانچ ضروری ہے۔ شکایت گزار کی جانب سے عدالت سے یہ بھی درخواست کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی رپورٹ کو بطور ثبوت پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔ وکیل کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں ابتدائی طور پر غلط بیان دیا گیا، جو تعزیرات ہند کے تحت جرم کے زمرے میں آ سکتا ہے۔

سونیا گاندھی کے وکیل کا موقف

دوسری جانب سونیا گاندھی کے وکیل آر ایس چیما نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ یہ محض قیاس آرائی پر مبنی اور غیر ضروری تحقیقات کی کوشش ہے، جسے مجسٹریٹ عدالت پہلے ہی مسترد کر چکی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کسی شخص کے شہری ہونے کے لیے درخواست دینا ہی واحد شرط ہے، یا وہ اس سے پہلے بھی شہری ہو سکتا ہے؟

اگلی سماعت کی تاریخ مقرر

گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے یہ اہم سوال اٹھایا تھا کہ اگر سونیا گاندھی 1983 میں شہری بنی تھیں تو 1980 میں ان کا نام ووٹر لسٹ میں کیسے شامل ہوا۔ عدالت نے اس نکتے کو معاملے کا بنیادی سوال قرار دیا۔ خصوصی جج وشال گوگنے نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد کیس کی اگلی سماعت 16 مئی کے لیے مقرر کر دی ہے۔ یہ معاملہ تقریباً نصف صدی پرانا ہونے کے باعث قانونی اور آئینی پہلوؤں سے نہایت حساس سمجھا جا رہا ہے، اور اس کے ممکنہ اثرات پر قانونی ماہرین کی گہری نظر ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read