Bharat Express DD Free Dish

Case Against Violent Remarks: وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کا وزیر داخلہ امت شاہ پر قانونی مقدمہ دائر کرنے کا فیصلہ، ’’تشدد آمیز بیانات‘‘ پر سخت ردعمل

وزیرداخلہ نے جمعہ کو آرام باغ میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ٹی ایم سی کے مبینہ ’’غنڈوں‘‘ کو سخت وارننگ دی تھی۔ انہوں نے کہا تھا: ’’میں دیدی کے غنڈوں کو خبردار کرتا ہوں کہ 29 تاریخ کو اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ اگر عوام کو تنگ کیا گیا تو 5 مئی کے بعد انہیں الٹا لٹکا کر سیدھا کر دیا جائے گا۔‘‘

مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتابنرجی نے مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے ہفتہ کے روز ضلع ہُگلی میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ شاہ کے ’’تشدد آمیز بیانات‘‘ کے خلاف عدالت سے رجوع کریں گی۔ ممتا بنرجی نے واضح طور پر کہا: ’’ہم امت شاہ کے خلاف ان کے پرتشدد بیانات پر قانونی مقدمہ دائر کریں گے۔ وہ ملک کے وزیرداخلہ ہیں، انہیں اس طرح کی زبان استعمال نہیں کرنی چاہیے۔‘‘ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ریاست میں اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے کی تیاریاں زوروں پر ہیں اور سیاسی ماحول پہلے ہی انتہائی کشیدہ ہو چکا ہے۔

’الٹا لٹکانے‘ والے بیان پر شدید اعتراض

تنازع اس وقت بڑھا جب امت شاہ نے ایک انتخابی جلسے میں ترنمول کانگریس (TMC) کے کارکنوں کے خلاف سخت کارروائی کی بات کرتے ہوئے متنازع بیان دیا۔ ممتا بنرجی نے اس پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایک وزیرداخلہ کی جانب سے اس طرح کی زبان کا استعمال ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا: ’’یہ کیسی زبان ہے جو ایک وزیرداخلہ استعمال کررہا ہے؟ یہ کہنا کہ انتخابات کے بعد لوگوں کو الٹا لٹکا دیں گے، مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔ اس ذہنیت کے ساتھ آپ کبھی بنگال نہیں جیت سکتے۔‘‘ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بی جے پی کا ’’زبردستی کا طریقہ‘‘ بنگال کے عوام کو ہرگز پسند نہیں آئے گا اور عوام اس کا جواب ووٹ کے ذریعے دیں گے۔

شاہ کی وارننگ اور سیاسی بیان بازی میں شدت

واضح رہے کہ امت شاہ نے جمعہ کو آرام باغ میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ٹی ایم سی کے مبینہ ’’غنڈوں‘‘ کو سخت وارننگ دی تھی۔ انہوں نے کہا تھا: ’’میں دیدی کے غنڈوں کو خبردار کرتا ہوں کہ 29 تاریخ کو اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ اگر عوام کو تنگ کیا گیا تو 5 مئی کے بعد انہیں الٹا لٹکا کر سیدھا کر دیا جائے گا۔‘‘ شاہ کے اس بیان نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے اور اسے انتخابی ماحول میں اشتعال انگیز بیان بازی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ بیان بازی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ریاست میں سیاسی مقابلہ انتہائی سخت ہو چکا ہے اور تمام جماعتیں ووٹروں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے جارحانہ مہم چلا رہی ہیں۔

ریکارڈ ووٹنگ کے بعد دوسرے مرحلے کی تیاری

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کی پولنگ جمعرات کو شام 6 بجے ختم ہوچکی ہے، جس میں ریاست نے 91 فیصد سے زائد ریکارڈ ووٹنگ درج کی۔ یہ اعداد و شمار بھارتی الیکشن کمیشن کے مطابق سامنے آئے ہیں۔ زیادہ ووٹنگ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عوام نے جمہوری عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، جبکہ انتخابی عمل کے دوران سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ دوسرے مرحلے کی پولنگ 29 اپریل کو ہوگی، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو مقرر ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق پہلے مرحلے میں ریکارڈ ووٹنگ کے بعد اب دوسرے مرحلے میں مقابلہ مزید سخت ہونے کا امکان ہے۔ اسی دوران امت شاہ نے پہلے مرحلے میں ریکارڈ ووٹنگ پر ووٹروں کو مبارکباد بھی دی اور انتخابی عمل کو پرامن بنانے پر الیکشن کمیشن اور سکیورٹی فورسز کی تعریف کی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read