مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ نے مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتابنرجی پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست میں خواتین محفوظ نہیں ہیں۔ جمال پور میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا: ’’ممتا کے دورِ حکومت میں ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے لیے کوئی تحفظ نہیں ہے۔ آر جی کر، سندیش کھالی، کولکاتا لا کالج اور درگاپور لا کالج جیسے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ خواتین پر مظالم ہو رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے ممتا بنرجی کے اس بیان پر بھی تنقید کی جس میں مبینہ طور پر خواتین کو شام 7 بجے کے بعد گھر سے باہر نہ نکلنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ شاہ نے کہا کہ بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد صورتحال بدل جائے گی۔
بی جے پی کی جیت کا دعویٰ، سخت بیانات جاری
امت شاہ نے اپنی تقریر میں بی جے پی کی جیت کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی پہلے مرحلے میں ہی بڑی کامیابی حاصل کرے گی۔ انہوں نے کہا: ’’پہلے مرحلے میں بی جے پی 110 سیٹوں پر کامیابی حاصل کرے گی اور دیدی کے پاس کوئی زمین باقی نہیں رہے گی۔ 4 مئی کو ہم جیت کا جشن منائیں گے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد ریاست میں قانون و نظم کی صورتحال بہتر ہوگی اور عام شہری، خاص طور پر خواتین، خود کو زیادہ محفوظ محسوس کریں گی۔
بدعنوانی اور فنڈز کے غلط استعمال کا الزام
مرکزی وزیر داخلہ نے ترنمول کانگریس حکومت پر بدعنوانی کے سنگین الزامات بھی عائد کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مرکز کی جانب سے بھیجے گئے فنڈز کا صحیح استعمال نہیں ہورہا۔ انہوں نے الزام لگایا: ’’مودی حکومت غریبوں کے لیے پکے مکانات، صاف پانی اور تعلیم کے لیے پیسہ بھیجتی ہے، لیکن یہ رقم ٹی ایم سی کے ’سنڈیکیٹ‘ اور ’کٹ منی‘ میں چلی جاتی ہے۔ بی جے پی کی حکومت آنے پر ہر ایک پیسہ واپس لیا جائے گا۔‘‘ شاہ نے شہریت ترمیمی قانون (CAA) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ممتا بنرجی نے اسے نافذ نہیں کیا، جبکہ بی جے پی اقتدار میں آکرمتوا برادری کے لوگوں کو شہریت فراہم کرے گی۔
دوسرے مرحلے کی پولنگ سے قبل سیاسی ماحول گرم
مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے کی پولنگ 29 اپریل کو ہوگی جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو طے ہے۔ انتخابات سے قبل ریاست میں سیاسی ماحول کافی گرم ہوچکا ہے، جہاں ایک طرف بی جے پی جارحانہ مہم چلا رہی ہے تو دوسری طرف ٹی ایم سی بھی اپنے دفاع میں سرگرم ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق خواتین کے تحفظ، بدعنوانی اور ترقی جیسے مسائل اس انتخابی مہم کے مرکزی نکات بن چکے ہیں، اور آنے والے دنوں میں بیان بازی میں مزید شدت کا امکان ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


