Bharat Express DD Free Dish

INDIA ALLIANCE

ٹی ایم سی کے ایم پی کلیان بنرجی نے کہا کہ  ون نیشن ون الیکشن بل آئین کے بنیادی ڈھانچے کو متاثر کرتا ہے۔ آرٹیکل 82 اور ذیلی آرٹیکل 5 تمام اختیارات الیکشن کمیشن کو دے رہا ہے۔ آپ اس بھرم میں مت رہیے،قیامت تک کوئی ایک پارٹی مکمل طور پر حکومت نہیں کر سکتی۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے ٹی ایم سی ایم پی نے کہا کہ اگر کسی کو اب بھی ایسا لگتا ہے تو وہ زمین پر آکر احتجاج کرے۔ دو تین ایسے بیانات جاری کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ کوئی بھی سرگرمی زمین پر ہونی چاہیے۔

اپوزیشن کی جانب سے مواخذے کی تحریک پر کاروائی تیز کردی گئی ہے،آج بقیہ اراکین سے دستخط کرانے کے بعد راجیہ سبھا سکریٹریٹ میں نوٹس جمع کرائی جائے گی اس کے بعد سکریٹریٹ یہ طے کرے گا کہ نوٹس میں کتنا دم ہے۔

راجیہ سبھا کے چیئرمین جگدیپ دھنکھڑ کے خلاف تحریک عدم اعتماد سے متعلق نوٹس پر کانگریس، ترنمول کانگریس، عام آدمی پارٹی، ڈی ایم کے، سماجوادی پارٹی اور جے ایم ایم سمیت کچھ دیگراپوزیشن پارٹیوں کے 60 اراکین پارلیمنٹ کے دستخط ہیں۔ اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے جگدیپ دھنکھڑ پرجانبداری کرنے کا الزام لگایا ہے۔

احتجاج کا مقصد ظاہر طور پر پیغام محبت ہے اور امن وبھائی چارے کا پیغام ہے جس کو لیکر اپوزیشن مسلسل حکومت سے شکایت کرتی رہی ہے اور پارلیمنٹ میں بھی اپوزیشن کے رہنماوں کے ساتھ اظہار محبت کیلئے حکومت کو ایک دعوت ہے۔

سماجوادی پارٹی کے لیڈراعظم خان نے سنبھل تشدد کے معاملے پر جیل سے پیغام بھجوایا ہے۔ اس پیغام میں انہوں نے خاص اپیل کی ہے۔

انڈیا الائنس نے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں راجیہ سبھا کے چیئرمین جگدیپ دھنکھڑ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا نوٹس دے دیا ہے۔

شیوسینا یو بی ٹی کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے کہا کہ ہم ممتا بنرجی کی رائے جانتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ممتا ہمارے ساتھ رہیں۔ ہم سب ایک ساتھ ہیں۔ یہاں تک کہ اگر کوئی اختلافات ہیں، وہ معمولی ہیں۔ہم کلکتہ جائیں گے اور اس پر ممتا بنرجی سے بات کریں گے۔

راجیہ سبھا چیئرمین کے جانبدرانہ پالیسی پر انڈیا اتحاد نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور اس اظہار کے طور پر انہوں نے راجیہ سبھا چیئرمین جگدیپ دھنکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (ایس پی) کے سربراہ شرد پوار کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب مختلف علاقائی جماعتوں میں عدم اطمینان اور ہریانہ اور مہاراشٹر میں کانگریس کے لیے حالیہ انتخابی جھٹکے کی وجہ سے انڈیا اتحاد کے اندر تکرار ہے۔